Saturday, 14 January, 2006, 14:56 GMT 19:56 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے ایک اتحاد متحدہ مجلس عمل کے صدر اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں ہلاک ہونے والوں میں ایمن الظواہری شامل نہیں ہیں کیوں کہ تمام اٹھارہ افراد کی شناخت ہوچکی ہے جو مقامی ہیں۔
وہ سنیچر کو لاہور میں جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹر منصورہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جس جگہ پر امریکہ نے بمباری کی ہے وہ سرحد سے کوئی تیس کلومیٹر اندر پاکستان کا ایک ایسا علاقہ ہے جہاں وسیع میدان ہے۔
قاضی حسین احمد نے کہا کہ جس جگہ بمباری ہوئی وہاں سے مقامی رکن قومی اسمبلی ہارون رشید کا گھر دو کلومیٹر دور ہے اور وہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور ان کی موجودگی میں ملبے سے لاشیں نکالی گئی ہیں۔
قاضی حسین احمد نے ہاتھ میں تھامی فہرست میں سے ہلاک شدگان کے نام پڑھ کر سنائے اور کہا کہ یہ کل اٹھارہ افراد ہیں جن میں سے گیارہ افراد بالغ اور سات بچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی نصف سے زیادہ تعداد عورتوں کی ہے۔
قاضی حسین احمد نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے وہ متحدہ مجلس عمل کا اجلاس بلائیں گے اور پھر اس معاملہ کو ایوان میں اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے ایک امریکی ٹی وی چینل کا حوالہ دیکر اس کی اس رپورٹ کو جھوٹاقرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس حملے میں ایمن الظواہری ہلاک ہوئے ہیں۔
قاضی حسین احمد نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں کوئی غیر ملکی نہیں ہے تمام مقامی افراد ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان اس بات کا اعلان کرے کہ ملک کی سرحد پار سے ان پر حملہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت میں اگر ہمت ہے تو وہ کم ازکم حملہ آوروں کو حملہ آور قراردے۔ مجلس عمل نے اتوار کو اس واقعہ کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔