Thursday, 05 January, 2006, 15:49 GMT 20:49 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردوڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری نے میرمرتضیٰ بھٹو قتل کیس کی سماعت کرنے والے جج پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
عدالت نے مقدمہ دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس گزشتہ دو سالوں سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایسٹ ظفر احمد شیروانی کی عدالت میں زیر سماعت ہے جنہوں نے انیس دسمبر پر آصف کو حاضری سے مستثنیٰ قرار دینے کی درخواست رد کرتے ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے ۔
عدالت میں جمعرات کو میرمرتضیٰ کیس کی سماعت ہوئی۔ جج ظفر احمد شیروانی نے آصف زرداری کی جانب سے فیکس کے ذریعے بھیجی گئی درخواست کی وکلا سے تصدیق کروائی۔
میرمرتضیٰ کیس کے وکیل خواجہ نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ اس درخواست میں آصف زرداری نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر احمد شیروانی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کو ان سے انصاف کی امید نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دو صفحات کی درخواست میں سیشن جج سے کہا گیا ہے کہ’نیب کا ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ریٹائرڈ برگیڈئر شفقت نبی شیروانی آپ کے بھائی ہیں، جو ڈائریکٹر نیب بھی رہے چکے ہیں۔ آپ نے ان کے اثرو رسوخ کے تحت میری بریت کی درخواست رد کی تھی‘۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’اس سے قبل سیف الرحمان نے کوٹیکنا کیس میں مداخلت کی تھی جس میں مجھ سزا ہوئی بعد میں اسے سپریم کورٹ نے معطل کیا تھا‘۔
آصف زرداری نے درخواست میں استد عا کی ہے کہ ہائی کورٹ میں ریفرنس بھیج کر مقدمے کی سماعت کسی اور جج کی عدالت میں منتقل کی جائے۔
آصف زرداری کے وکیل بیرسٹر عزیزاللہ شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ سیشن جج نے اس درخواست کو مسترد کردیا اور اپنے نوٹ میں کہا کہ عدالت اپنے ضمیر کے مطابق مقدمے کی سماعت کر رہی ہے۔ اگر آصف زرداری کو شکایت ہے تو وہ ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ کراچی میں انیس سو چھیانوے میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی رہائش گاہ ستر کلفٹن کے قریب میرمرتضیٰ بھٹو پولیس فائرنگ میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے اکیس دن کے بعد ان کی بہن بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کردیا گیا تھا۔