Tuesday, 03 January, 2006, 22:53 GMT 03:53 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ وہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ملاقات کے دوران فوجوں کے انخلا اور ’خود حمکرانی‘ کی تجویز کے بارے میں تفصیلات جانناچاہیں گے۔
تین کشمیری رہنمامیرواعظ مولوی عمر فاروق، عبدالغنی بٹ اور بلال غنی لون پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزے کے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کے لیے منگل کے روز مظفرآباد پہنچے۔ وہ گذشتہ روز دہلی سے لاہور پہنچے تھے۔
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے حال میں کشمیر کے معاملے کو حل کرنے کے لیے فوجوں کے انخلا اور خود حکمرانی کی تجویز دی تھی۔
میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو انڑویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب سے مل رہے ہیں۔ ہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں ہم پاکستان کے صدر جنرل رویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے مل رہے ہیں۔ کشمیری رہنما نے کہا کہ آج ہم نئے تناظر میں مسئلہ کشمیر کو دیکھ رہے ہیں۔ نئی نئی تجاوئز سامنے آرہی ہیں فوجوں کے انخلا کی بات ہورہی ہیں، خود حکمرانی کی بات ہورہی ہے، یونائٹیڈ سٹیسں آف کشمیر کی بات ہورہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ’ ان سب تجاویز پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں طرف کی کشمیری قیادت آپس میں بات کریں۔ ہندوستان اور پاکستان بات کریں۔
پاکستان کس حد جانے کیلیے تیار ہے؟ |
میرواعظ نے کہا کہ ’جنرل مشرف نے فوجوں کے انخلا کی جو تجویز ہے ہم یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ پاکستان کس حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور یہ بھی خود حکمرانی سے ان کی کیا مراد ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بھی دونوں ممالک کو کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنی چاہیں۔ انھوں نے کہا کہ’ اگر ہندوستان اور پاکستان کشمیر سے فوجیں نکالتے ہیں ہم سمجھتے ہیں یہ بڑی کامیابی ہوگی‘۔
مولوی عمر فاروق نے کہا کہ ’ہمیں فوجوں کے انخلا اور خود حکمرانی کی تجویز کی کوئی زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہیں اور یہ کہ وہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے دوران اس کی تفصیلات جاننا چاہیں گے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس تجویز کو اصولی طور پر سمجھتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارا موقف بالکل واضع ہے کہ کشمیر پر کوئی ٹھوس پیشرفت ہونی چاہیے اور یہ کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کشمیر ایک پچیدہ اور مشکل معاملہ ہے یہ ایک دو اجلاسوں میں حل نہیں ہوگا‘۔ انھوں نے کہا کم از کم کشمیر کے تنازعے کے حل کی طرف اقدامات اٹھائے جانیں چاہیں۔
ٹائم فریم طے ہونا چاہیے |
انھوں نے کہا کہ بات چیت بامقصد ہو اور مسئلے کو حقیقی بنیاد بنا کر بات چیت ہونی چاہیے اور تنازعے کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹائم فریم طے ہونا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ہم کسی بھی تجویز پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اندرونی خودمختاری اور لائن آف کنڑول کو مستقل سرحد میں تبدیل کرنے اور جوں کی توں کی صورت حال ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔