Monday, 02 January, 2006, 10:32 GMT 15:32 PST
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دو روز سے جاری بارش اور برفباری کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں ماند پڑھ گئیں۔
اطلاعات کے مطابق زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں نئے سال کےآغاز پر کئی فٹ برف پڑی جس سے خمیوں میں مقیم لوگوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا اور بچوں اور بوڑھوں میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
بارش اور برف کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا جس سے ہیلی کاپٹر پروازیں معطل کر دی گئی ہیں اور اکثر زمینی راستے بھی شدید برف باری کی وجہ سے بند ہو گئے ہیں۔ان علاقوں میں درجہ حرارت نقطمہ انجماد سے نیچے گر چکا ہے
پاکستان فوج کے ایک ترجمان میجر فاروق نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ بارش اور برف باری کی وجہ سے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں روکنی پڑی ہیں اور جب تک موسم بہتر نہیں ہو جاتا ہیلی کاپٹر پروازیں شروع کرنا ممکن نہیں ہو گا۔
اقوام متحدہ اور دوسرے ملکوں کے ہیلی کاپٹر زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں شدید سردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے خمیے سپلائی کر رہے تھے۔
مظفرآباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ کشمیر کو پاکستان کے مختلف حصوں سے ملانے کے اکثر راستے برف باری کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں۔
وادی نیلم جو زلزلہ میں شدید متاثر ہوئی، برف باری کی وجہ سے دنیا سے کٹ چکی ہے اور وہاں جانے کے تمام زمینی راستے بند ہو چکے ہیں۔اسی طرح وادی جہلم میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مظفر آباد کا کوہالہ پل کے ذریعے اسلام آباد سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔جبکہ برار کوٹ کا راستہ کھلا ہے۔
ضلع باغ جانے والے کچھ راستے کھلے ہیں جبکہ کچھ بند ہو چکے ہیں۔ راولاکوٹ سے باغ جانے کا راستہ کھلا ہے لیکن کوہالہ پل کی جانب سے بند ہے۔