Monday, 02 January, 2006, 03:00 GMT 08:00 PST
عزیزاللہ خان اور ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ اور بارکھان
بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے درمیانی علاقے بار کھان کے عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جہازوں کو بمباری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
بلوچستان گزشتہ کئی روز سے سکیورٹی فورسز اور مقامی قبائل کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کی رات بھی سبی اور ہرنائی میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں تاہم کوئٹہ سے نامہ نگار عزیزاللہ خان کا کہنا ہے کہ حکومت اس بارے اب تک مسلسل خاموش ہے۔
بلوچستان کے علاقے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں جھڑپوں کے بارے میں فریقین متضاد دعوے کرتے رہے ہیں۔ ان علاقوں تک رسائی مشکل ہونے کی وجہ سے آزادانہ طور پر ان دعوؤں کی تصدیق بھی دشوار ہے۔
ادھر ہمارے ایک نامہ نگار ندیم سعید دشوارگزار راستوں سے ہوتے ہوئے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے تقریباً درمیانی علاقے بارکھان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے وہاں ایسے مقامی لوگوں سے معلومات حاصل کی ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے جہازوں کو بمباری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
بارکھان کے رہائشی علی محمد بتاتے ہیں’تین جہاز تھے۔ انہوں نے سور کے علاقے سے بمباری کی۔ اس سے بہت نقصان ہوا ہم اندر تھے جو کچھ دلانوں میں تھا وہ سب تباہ ہو گیا۔ ایک بم سکول پر مارا گیا میں اس وقت دوسرے پہاڑ پر تھا۔ میں نے دور سے دیکھا سکول تباہ ہو گیا‘۔
ایک اور عینی شاہد عیدو بگٹی نے ندیم سعید کو بتایا ’یہاں ایک سٹور اور ہوٹل تھا جو بمباری سے تباہ ہو گئے۔ سٹور دوائیوں کا تھا۔ تین جہاز تھے جنہوں نے بمباری کی، گھر بھی تباہ ہوئے اور دکانیں بھی‘۔