Sunday, 01 January, 2006, 15:46 GMT 20:46 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سردی، بارش اور برف باری سے نئےسال کا آغاز ہوا۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہروں، مظفر آباد، بالا کوٹ، باغ، جھیل کوٹ صوبہ سرحد کے علاقوں ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالا کوٹ ، بٹ گرام اور دیگر حصوں میں بارش ہوئی اور اولے پڑے۔
وادی نیلم اور وادی کاغان کے مختلف علاقوں میں برفباری کی اطلاعات ملی ہیں۔ یہ بارش اور برف باری کل شام سے ہی شروع ہو گئی تھی جواب تک وقفے وقفے سے جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ دو روز تک جاری رہ سکتا ہے۔
ان علاقوں میں متاثرین زلزلہ کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے لیے سال کا پہلا دن اور رات موسم کی سختی لے کر آیا۔ نئے سال کی پہلے رات سرد تھی۔
خیمہ بستیوں اور تباہ شدہ قصبوں میں اندھیرا چھایا رہا۔ ان علاقوں میں نیو ائیر نائٹ منانے کا ویسے بھی رواج نہیں ہے لیکن یہاں پرموجود امدادی کارکنوں نے اپنے طور پر چھوٹی موٹی تقریبات کا انعقاد کیا۔ بات صرف دعائیہ کلمات تک محدود رہی اور وقت سے پہلے ختم ہو گئی۔
ایبٹ آباد میں ورلڈ چرچ کونسل کے امدادی کارکنوں نے نیو ائیر نائٹ تو منائی لیکن انہیں یہ تقریب وقت سے پہلے ختم کرنا پڑی کیونکہ اگلی صبع انہیں امدادی کاموں کے لیے ایک اہم میٹنگ میں شرکت کرنا تھی۔ صوبہ سرحد کے شہر بٹل کی خیمہ بستی میں سال کے پہلے دن سوجوڑوں کی اجتماعی شادی
ہوئی۔
اس تقریب کا انعقاد پاک فوج اور چند این جی اوز نے مل کر کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق شدید سردی کے باوجود سارا دن شادی کی یہ تقریبات جاری رہیں۔
متاثرہ علاقوں میں امدادی کارکن اپنے طور پر زندگی کی رونقیں بحال کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ ایک خاتون امدادی کارکن صائمہ عباسی کی خواہش ہے کہ سال دو ہزار چھ میں کم از کم بے گھر لوگوں کو گھر مل جائے اور وہ معمول کے مطابق اپنی زندگی بس کرنے لگ جائیں۔
سال دوہزار پانچ متاثرہ علاقوں کے لیے کچھ اچھا نہیں رہا لیکن اب متاثرین کی بڑی تعداد حوصلے میں ہے۔
بالا کوٹ کے گاؤں سنگھڑ کے رہائشی شبیر خان کہتے ہیں کہ جب تک ہم خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش نہیں کریں ہماری اصل زندگی واپس نہیں آئے گی۔ انہوں نے متاثرین سے اپیل کی کہ وہ سال دوہزار چھ میں امداد پر انحصار ختم کریں۔