Saturday, 31 December, 2005, 21:57 GMT 02:57 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
صوبہ بلوچستان کے شہر ماشکیل میں ایک دستی بم کو کھلونا سمجھ کر کھیلنے والے بچوں کےہاتھوں میں دھماکہ ہوا ہے جس سے ایک خاتون اور دو بچیوں سمیت چار افراد ہلاک اور تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر خضدار میں کوئلے کی انگیٹھی کے دھویں سے تین بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
ماشکیل کوئٹہ سے کوئی ساڑھے چھ سو کلومیٹر دور ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ علاقے کے تحصیلدار محمد نصیر نے بتایا ہے کہ بچوں کو یہ دستی بم آبادی سے کافی دور جنگل میں کہیں ملا تھا جسے وہ گھر لے آئے اور کھیلنے لگے۔ بم کو چھیڑنےسے زور دار دھماکہ ہوا ہے۔ دھماکے سے بچوں کی والدہ دو بچیاں اور ایک نوجوان ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ قریب کھیلنے والے ایک لڑکی اور دو لڑکے زخمی ہوئے ہیں۔
محمد نصیر نے بتایا ہے کہ بچوں کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور بچے محنت مزدوری کر کے پیٹ پالتے تھے۔
بلوچستان میں اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آچکے ہیں جب گزشتہ سال مستونگ کے قریب بچوں کا دستی بم ملا تھا جس کے پھٹنے سے چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
افغانستان سے بلوچستان کے راستے منشیات کے علاوہ اسلحہ بھی مختلف علاقوں کو سمگل کیا جاتا ہے۔ سمگل کیا جانے والا اسلحہ ویرانوں میں زمین کے اندر چھپا کر رکھ دیاجاتا ہے اور موقع ملنے پر اسلحہ نکال دوسری مقام پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ بچوں کو یہ دستی بم کس طرح ملا ہے۔ اس بارے مں تحقیق کی جا رہی ہے۔
ادھر خضدار پولیس نے بتایا ہے کہ فرنٹیئر کور کے کیمپ میں رہایش پذیر ایک خاندان کے تین بچے ہلاک اور والدین بہ ہوش ہو گئے ہیں۔ پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ ایف سے کے اہلکاروں نے انھیں بتایا ہے کہ یہ واقعہ کوئلے کی انگیٹھی کے دھویں کی وجہ سے پیش آیا ہے۔