Thursday, 29 December, 2005, 10:19 GMT 15:19 PST
شمالی وزیرستان میں مشتبہ شدت پسندوں کی فائرنگ سے نیم فوجی دستے کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک خفیہ ایجنسی کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بدھ کو شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں نیم فوجی دستے فرنٹیئر کور کے دو جوانوں پر حملہ کیا گیا جس میں ایک جوان ہلاک ہو گیا۔
اہلکار کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک جوان سر میں گولی لگنے سے موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرے جوان کی فائرنگ سے حملہ آور فرار ہوگئے۔
حکام نے علاقے میں سرگرم شدت پسندوں کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ سینیئر فوجی حکام کا کہنا ہے افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے میں عرب اور وسط ایشیا سے تعلق رکھنے والے شدت پسند موجود ہیں جنہیں قبائلیوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان شدت پسندوں پر حکومتِ پاکستان سے تعاون کرنے والے قبائلی عمائدین پر حملے کرنے کا بھی الزام لگایا جاتا ہے۔
دریں اثناء شمالی وزیرستان میں ہی میران شاہ کے علاقے میں ایک سر بریدہ لاش ملی ہے جس کی جیب میں موجود کاغذ پر تحریر ہے کہ ’اس شخص کو امریکہ کے لیے جاسوسی کے جرم میں قتل کیا گیا ہے اور ہر وہ شخص جو امریکہ کے لیے کام کرے گا اس کا انجام یہی ہو گا‘۔