Thursday, 29 December, 2005, 19:35 GMT 00:35 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردوڈاٹ کام کراچی
سندھ کے قوم پرست رہنماؤں نے امریکی سفارتکار سے ملجقات کی اور کالاباغ ڈیم پر سندھ کے خدشات سے آگاہ کیاہے۔
جمعرات کو کراچی میں قائم امریکی سفارتخانے کے قونصلیٹ افسر فریڈ اسٹرن سے اپوزیشن اور قوم پرست رہنماؤں پی پی پی کے صوبائی صدر سید قائم علی شاہ، عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو، سندہ ترقی پسند پارٹی کے قائد قادر مگسی، سندھ نیشنل کونسل کے حسین بخش تھیبو اور سول سوسائٹی سے جامی چانڈیو نے ملاقات کی۔
رسول بخش پلیجو نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے امریکی حکام کو سندھ میں ہونے والے تاریخی اور بین الاقوامی جرم سے آگاہ کیا اور انہوں نے ہمارے موقف کو غور سے سنا ہے۔
ڈاکٹر قادرمگسی کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکی حکام کو کالا باغ ڈیم کے اشو پر پاکستان اور سندھ کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ ہم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت پاکستان اور ورلڈ بینک پر اپنا اثر رسوخ استعمال کریں اور اس کی فنڈنگ رکوائیں۔
قادر مگسی کے مطابق امریکی حکام نے ان سے ہمدردی کا اظہار کیا اور انہوں نے انہیں بتایا کہ حکومت نے ہمیں قائل کیا تھا کہ اگر ڈیم نہیں بنا تو پاکستان کی معشیت کو نقصان پہنچے گا۔ زراعت متاثر ہوگی بجلی پیدا نہیں ہوگی۔ مگر آپ نے جو پہلو بتائے ہیں وہ ہم سے اوجھل تھے۔
قادر مگسی نے بتایا کہ ہم نے کالاباغ ڈیم کے حوالے سے ان کو دستاویزات اور رسول بخش پلیجو کی کتاب بھی پیش کی۔
جامی چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے امریکی حکام کو بتایا کہ کالاباغ ڈیم حساس اشو ہے اگر اس کی تعمیر کی گئی تو اس کے مثبت نتائج نہیں نکلیں گے۔ اس سے ریاست کو نقصان پہنچے گا۔
واضح رہے کہ کالاباغ ڈیم کی اشو پر پہلی مرتبہ غیرملکی سفیروں نے بریفنگ لی ہے اور یہ بھی پہلا موقع ہے کہ امریکہ کے خلاف موقف رکھنے والے ان رہنماؤں نے اس سے مدد کی درخواست کی ہے۔