Wednesday, 28 December, 2005, 15:50 GMT 20:50 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے متنازعہ کالا باغ ڈیم کے بارے میں فنی ماہرین کی کمیٹی متفقہ طور پر سفارشات مرتب کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔
کمیٹی کے اکثریتی اراکین نے کالا باغ ڈیم کی حمایت کی ہے جبکہ چیئرمین نے کالا باغ ڈیم کو کم تر ترجیحی منصوبہ قرار دیا ہے اور سفارش کی ہے کہ سکردو، کتزرہ ڈیم اور بھاشا ڈیم کو کالا باغ ڈیم پر فوقیت دی جائے۔
پانی و بجلی کی وفاقی وزارت کے سیکریٹری اشفاق محمود نے متنازعہ کالا باغ ڈیم سمیت نئے آبی ذخائر کی تعمیر اور سمندر میں پانی چھوڑنے کے بارے میں ماہرین اور پارلیمان کی بنائی گئی علیحٰدہ علیحٰدہ کمیٹیوں کی تین رپورٹیں بدھ کی شام گئے بحث کے لیے جاری کردی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹیں ہزاروں صفحات پر مشتمل ہیں اس لیے انہیں پاکستان حکومت کی ویب سائیٹ پر جاری رکھ دیا گیا ہے:
www.pakistan.gov.pk کی ویب سائیٹ پر جاکر کوئی بھی شخص وزارتِ پانی و بجلی کی سائیٹ کھول کر یہ رپورٹیں پڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں جب ان رپورٹوں کے اہم نکات کا ذکر کیا تو بعض صحافیوں نے ان سے کہا کہ آپ ان نکات کا ذکر کر رہے ہیں جو حکومت کے مفاد میں ہیں۔ اس پر سیکرٹری نے کہا کہ بات قومی مفاد کی ہے اور نہ کہ حکومت کے مفاد کی۔