Friday, 23 December, 2005, 19:09 GMT 00:09 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
کوہلو میں فوجی کارروائی اور کالا باغ ڈیم کے منصوبے کے خلاف جمعہ کو
بلوچستان کے بیشتر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی کوہلو میں سکیورٹی فورسز کے مزید حملوں اور مکران میں مشتبہ افراد اور ایف سی کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
کوہلو میں ہلاک ہونے والے افراد کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
جمہوری وطن پارٹی کے لیڈر ہمایون مری نے کہا ہے کہ جمعہ کو بھی کوہلو کے مختلف مقامات پر حملے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بڑی تعداد میں جیٹ طیاروں نے مختلف مقامات پر بمباری کی ہے جس سے کافی جانی نقصان کی اطلاع ہے لیکن ان کی تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔
ایک نا معلوم شحض نے ٹیلیفون پر اپنا نام دودا بلوچ بتاتے ہوئے کہا کہ مکران ڈویژن میں طلار سائجی اور دڑام کے مقامات پر ان کی نیم فوجی دستے کے اہلکاروں سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ کیا ان جھڑپوں میں کوئی جانی نقصان ہوا ہے تو انہوں نے کہا ہے کہ دونوں طرف سے گولے اور راکٹ داغے گئے ہیں لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ فورسز کا کتنا نقصان ہوا ہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ سرکاری سطح پر ان جھڑپوں کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔
ادھر کوئٹہ میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی اے آر ڈی اپنے آپ کو محکوم کہلوانے والی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم اور عوامی نیشنل پارٹی نے مشترکہ طور پر پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مقریرین نے کوہلومیں فوجی آپریشن اور کالا باغ ڈیم کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن رنگ برنگے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور فوجی کارروائیوں اور حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کر رہے تھے۔ جلسہ گاہ کے باہر بڑی تعداد میں مسلح پولیس موجود تھی۔
انہوں نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم اور کوہلو میں بلوچوں کے خلاف آپریشن پنجاب کے لیے کیا جا رہا ہے۔
آعا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ اس وقت فوج اپنے تمام اقسام کے اسلحے کوہلو میں استعمال کر رہی ہے جس میں ٹینک گن شپ ہیلی کاپٹر اور فضائیہ کے جیٹ طیاری شامل ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ کوہلو میں شدید بمباری سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
روف لالہ نے کہا کہ محکوم قوموں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان جب نہیں بنا تھا تو اس وقت یہ اقوام انہی علاقوں میں آباد تھیں اور یہاں اپنے وسائل کی مالک تھیں لیکن اب سب کچھ پنجاب کے لیے کیا جا رہا ہے۔ صوبہ سرحد کے پانی بلوچستان کی گیس اور تیل پر قبضے کے لیے موجودہ فوجی حکمران تمام اقدامات کر رہے ہیں۔
حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ برطانوی دور سے بلوچوں پر حملے کیے جا رہے ہیں پاکستان بننے کے فورا بعد سے بلوچستان پر حملے کیے گئے اور اب یہ پانچواں فوجی آپریشن ہے۔