http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 17 December, 2005, 19:43 GMT 00:43 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں حالات کشیدہ

صوبہ بلوچستان کے علاقے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں حالات انتہائی کشیدہ بتائے گئے ہیں جہاں اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے کارروائی کی ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

نواب خیر بخش مری کے بیٹے اور رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے کوہلو کے ایک دور دراز علاقے میں بھاری اسلحے سے فائرنگ کی ہے۔ انھوں نے الزام لگایا ہے کہ یہ کارروائی دیہی علاقوں میں کی گئی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ایسی کارروائیوں سے حکومت لوگوں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ کوئی انتہائی قدم اٹھائیں۔

ادھر جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سکریٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے ڈیرہ بگٹی میں فرنٹئر کور نے وہ مورچے دوبارہ سنمبھال لیے ہیں جو ایف سی اور بگٹی قبائل کے مابین ایک معاہدے کے تحت خالی کیے گئے تھے۔

یہ معاہدہ مارچ کے واقعے کے بعد مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور سینیٹر مشاہد حسین نے کرا یا تھا۔ نواب اکبر بگٹی کے مطابق سترہ مارچ کے واقعہ میں ایف سی کی فائرنگ سے ستر سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ نیم فوجی دستے کے اہلکاروں نے مورچے سنمبھال لیے ہیں اور کسی بھی وقت کوئی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ڈیرہ بگٹی کے دور دراز علاقے بیکڑ میں ایف سی نے کارروائی کی ہے۔

یاد رہے بیکڑ میں گزشتہ دنوں بگٹی مسوری قبائل کے مابین جھڑپ ہوئی تھی جس میں کم سے کم دو افراد ہلاک اور چار کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔

سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی کارروائی شروع نہیں کی گئی تاہم انھوں نے کہا ہے فی الحال ان مقامات کا جائزہ لیا جایا جا رہا ہے جہاں مشتبہ افراد روپوش ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے کوہلو کے دورے کے دوران راکٹ باری اور ایف سی کی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ضرور ہو گی۔