http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 16 December, 2005, 10:31 GMT 15:31 PST

مبشر زیدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’زیادتی نہیں ہوئی‘، مقدمہ خارج

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے لاہور کے میو ہپستال میں ایک ڈاکٹر پر مبینہ جنسی زیادتی کا الزام عائد کرنے والی بیس سالہ کشمیری لڑکی کے اس بیان کے بعد کیس خارج کر دیا ہے جس میں اس نے ڈاکٹر کو بےگناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوئی۔

اسی لڑکی سے منسوب ایک تحریری بیان پر ایک ہفتہ پہلے لاہور پولیس نے میو ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے خلاف حدود آرڈیننس کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ملک قیوم کے خط کے بعد اس معاملے کا نوٹس لیا تھا اور منگل کو اسلام آباد میں مختصر سماعت کے بعد عدالت نے پنجاب پولیس کے سربراہ اور متاثرہ لڑکی کو آج طلب کر لیا تھا۔

اس لڑکی کے اس بیان کے بعد کہ اس کے ساتھ زیادتی کا الزام جھوٹا ہے سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس کیس کو خارج کر دیا۔

ملک قیوم کے مطابق کچھ اخباری خبروں میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکومت اس معاملے کو ختم کرنے کے لئے لڑکی پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

تاہم چیف جسٹس نے یہ کہ کر کیس خارج کر دیا کہ اس بات پر پردہ رہنے دیں۔
بیس سالہ کشمیری لڑکی آٹھ روز تک پراسرار طورپر منظر عام سے غائب رہنے کے بعد منگل کو لاہور کی ایک مقامی عدالت میں پیش ہوئی تھی جہاں بند کمرے میں اس کا بیان قلمبند کیا گیا۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ ایک سو چونسٹھ کے تحت عدالت میں قلمبند کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوئی بلکہ لڑکی کے بقول بعض افراد نے اس کی مرضی کے خلاف تحریری بیان پر دستخط کرائے اور انگوٹھا لگوایا۔

اس لڑکی کے مبینہ تحریری بیان پر چھ دسمبر کی رات پولیس نے میو ہپستال کے ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا تھا لیکن اس کے بعد یہ لڑکی منظر عام سے ہٹ گئی اس دوران اس نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ایک بار بھی براہ راست بات نہیں کی۔