Wednesday, 14 December, 2005, 23:01 GMT 04:01 PST
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے دریاؤں میں سے ایک دریائے سندھ کا منبع پہلے کوئی اور تھا۔
سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دریائے سندھ پہلے قراقرم کے پہاڑوں سے شروع ہوتا تھا نا کہ مغربی ہمالیہ سے جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔
دریائے سندھ نے دنیا کی قدیم ترین انسانی تہذیب کو پانی فراہم کیا ہے۔ تبت سے نکلنے والے اس دریا کا پانی مغربی ہمالیہ سے ہوتا ہوا پانچ دریاوں کی شکل میں پنچاب میں سے گزرتا تھا۔
سائنسدانوں نے گزشتہ تین کروڑ سالوں میں بحیرہ عرب کی تہوں میں بیٹھ جانے والی مٹی کے تجزیے کے بعد اندازہ لگایا ہے کہ صرف پچاس لاکھ سال قبل دریائے سندھ کا منبع قراقرم کے پہاڑ تھے کیونکہ دریائے سندھ کے ذریعے سمندر میں آنے والے رسوب یا مٹی کی تہوں میں شامل معدنیات وہی ہیں جو قراقرم کے علاقے سے ملتی ہیں۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اسی دوران قشر ارض میں حرکات کے باعث پنجاب کے دریا مغرب کی جانب مڑ گئے تھے۔