Wednesday, 14 December, 2005, 03:46 GMT 08:46 PST
وزیراطلاعات شیخ رشید نے پاکستان کو امریکہ سے دو ایف سولہ طیارے ملنے کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ یہ طیارے پاکستان کو خیر سگالی کے طور پر دیے گئے ہیں۔
بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے ان طیاروں کو اس سودے کا حصہ قرار دیا جس میں صدرِ پاکستان جنرل مشرف نے زلزلے کی پیش نظر تاخیر کا فیصلہ کیا تھا۔
شیخ رشید نے کہا کہ اس سودے میں تاخیر کا فیصلہ کیا گیا تھا اسے ملتوی نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ طیارے پاکستان کو خیر سگالی کے طور پر ملے ہیں اور ’غالبا‘ مفت ملے ہیں۔
پاکستانی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تاخیر دو سے چار ماہ کی ہو سکتی ہے۔ ’ہم زلزلے کے تقاضوں میں بھی سرخرو ہونگے‘ لیکن ارد گرد کے حالات اور قومی سلامتی اور دفاع کے تقاضوں سے غافل نہیں ہوا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاز تو ہم نے لینے ہیں اور ہم لیں گے۔ یہ ہمارے دفاع کا مسئلہ ہے۔ بقول ان کے ’ہم پندرہ سال بعد اس پوزیشن میں آئے ہیں کہ ہمیں یہ جہاز ملیں اور اس قیمت پر ملیں‘۔
ان کا کہنا تھا ابھی ستر طیاروں کے اس سودے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں۔ جب اس پر دستخط ہو جائیں گے تو اس کے بعد ان طیاروں کی فراہمی میں پانچ سے چھ سال کا عرصہ لگ جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سودے کے تحت پاکستان کو بیس طیارے پرانے اور باقی جدید تر ماڈل کے ملیں گے اس کے علاوہ معاہدے کے تحت پاکستان کے پاس موجود طیاروں کی ’رینوویشن‘ بھی کی جائے گی۔