http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 13 December, 2005, 20:58 GMT 01:58 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

کوئٹہ میں جنرل مشرف اور دھماکے

صدر جنرل پرویز مشرف کی موجودگی کے دوران منگل کو رات کے وقت کوئٹہ میں زور دار دھماکوں کی دو آوازیں سنی گئی ہیں۔تاہم تا حال کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ سرکاری سطح پر ان دھماکوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا۔

ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یہ دھماکے راکٹ داغنے سے ہوئے ہیں اور یہ راکٹ مبینہ طور پر چھاونی کے علاقے میں گرے ہیں۔

صدر مشرف نے منگل کو کوئٹہ کے دورے کے دوسرے روز سٹاف اینڈ کمانڈ کالج میں زیر تربیت افسران سے خطاب کیا ہے اور گورنر ہاؤس میں اراکین پارلیمان اور معززین شہر سے خطاب کیا ہے۔

راکٹ کے دھماکوں کے بعد شہر میں شدید خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ ان دھماکوں کی آواز اتنی زور دار تھی کہ دور دور تک سنی گئیں۔

دھماکوں کے بعد چھاونی کے علاقے میں کسی کو داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔ عام دنوں میں بھی چھاونی کے علاقے میں عام شہریوں کو گاڑی کے کاغذات جمع کرائے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

دریں اثنا ایک نا معلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام میرک بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے ان دھماکوں کی زمہ داری قبول کرتا ہے۔

میرک بلوچ نے کہا ہے کہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ موجودہ حکمران جب تک بلوچستان کو اس کے حقوق نہیں دیں گے اب کا احتجاج جاری رہے گا۔