Tuesday, 13 December, 2005, 18:26 GMT 23:26 PST
یونان میں سرکاری وکیلوں نے سات پاکستانیوں کے ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ میں ان کے رشتہ داروں سے تعلقات کی وجہ سے انہیں اغوا کرکے پوچھ گچھ کی گئی۔
ان سات پاکستانیوں نے کہا ہے کہ انہیں سات جولائی کو لندن کی زیرزمین ریلوے میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے فوری بعد اغوا کرلیا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے اغواکاروں نے، جو انگریزی بول رہے تھے، ان کی آنکھ پر پٹی باندھ دی اور اڑتالیس گھنٹے تک غیرقانونی طور پر قید رکھا۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے ان الزامات کے تردید کی ہے کہ ان سات پاکستانیوں کے اغوا میں برطانوی انٹیلیجنس کے ایجنٹ ملوث تھے۔
برطانیہ کی ایک پارلیمانی کمیٹی کو جیک اسٹرا نے بتایا کہ یونان میں ہونے والے اس واقعے میں کوئی بھی برطانوی اہلکار شامل نہیں تھا۔
یونان کی پولیس کا کہنا ہے کہ جولائی کے اس واقعے کے لیے ان کے پاس مقدمہ اب دائر کیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر یہ واقعہ جولائی میں پیش آیا تھا۔
پاکستانیوں کی نمائندگی کرنے والے وکیل کا کہنا ہے کہ اب جبکہ اس بارے میں پارلیمان میں پیٹیشن دائر کردیا گیا ہے تو انصاف اور پبلِک آرڈر کے وزراء آئندہ چند دنوں میں ان سوالات کا جواب دینے کے لیے مجبور ہوں گے۔
ان افراد نے کہا ہے کہ حراست میں ان سے ان کی برطانیہ میں رشتہ داروں سے تعلقات کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ ان کے وکیل کا خیال ہے کہ یہ واقعہ سات جولائی کے لندن دھماکوں سے منسلک ہے۔