Sunday, 11 December, 2005, 16:05 GMT 21:05 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور میں چھاؤنی کے علاقے میں باراتیوں سے بھری بس میں آتش زدگی سے کم از کم چالیس افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
لاہور کی کینٹ پولیس کے سربراہ محمد علی نیکوکارا کے مطابق اس بس میں آتش بازی کاسامان بھی تھا جو ایک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔
یہ بس مین سٹاپ غازی آباد کے رہائشی ظہیر خان کے باراتیوں سے بھری تھی ۔
ظہیر خان سعودی عرب میں ملازم ہیں اور شادی کے لیے چھٹی پر وطن لوٹے تھے۔
شام پونے سات بجے کے قریب یہ بس مغل پورہ پل پار کرکے غازی آباد جانے والی ذیلی سڑک پر مڑی ہی تھی کہ اچانک اس میں آگ لگ گئی اور دھماکوں کی آواز سنی گئی۔
بس حادثے کے عینی شاہدوں نے بتایا کہ چند منٹ کے اندر اس بس میں سوار درجنوں افراد جل کر سیاہ ہو چکے تھے اور کئی اعضا جسموں سے الگ ہوچکے تھے۔
ایک دوسری کار میں سوار باراتی گلزار حسین نے بتایا کہ دولہا دلہن اور دیگر کار سوار گھر پہنچ چکے تھے دولہا کار سے اتر چکا تھااور دلہن کو کار سے اتارنے کی رسمیں جاری تھیں کہ یہ اندوہناک خبر پہنچی دولہا سمیت تمام افراد بھاگ کر ایک کلومیٹر دور بس کے پاس پہنچے۔
عینی شاہد گلزار حیسن |
گلزار حسین نے کہا کہ وہ دولہا اور دوسرے رشتہ دار بے بسی سے لوگوں کے جلنے کا منظر دیکھتے رہے۔
ڈرائیور انعام اللہ چلتی بس کو روک کر چھلانگ لگا کر اتر گئے تھے انہوں نے بس جلنے سے پہلے کا منظر بیان کرتے ہوئے کہاکہ کسی باراتی نے آتش بازی کے انار کو جلاکر باہر پھینکنے کی کوشش کی لیکن وہ بس کے اندر ہی چل گیا اور گر کر اس کے شعلے گھومنے لگے۔
لوگوں نے چیخ وپکار شروع کر دی اور اترنے کی کوشش کی لیکن ایک ہی دروازے کی وجہ سے لوگ اس میں پھنس گئے اسی دوران بس میں موجود آتش بازی کے دوسرے سامان کو بھی آگ لگ گئی۔
ایمبو لینس سروس کے حکومتی ادارے ریسکیو ون ون ٹو ٹو کے انچارج ڈاکٹر یحٰی بٹ نےایک جلی ہوئی گھڑی دکھاتے ہوئےکہا کہ اس کی سوئیاں چھ بجکر بیالیس منٹ پر رک گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے سوختہ لاشوں میں دبے چند زخمی بھی نکالے ہیں۔
انہی کی ٹیم کے ایک دوسرے رکن محمد افتخار نے کہا کہ لاشیں سیٹوں سے چپکی ہوئی تھیں اور ایک دوسرے میں دھنسی ہوئی تھیں بعض لاشیں اس قدر جل چکی تھیں کہ وہ جلی ہوئی لکڑی لگتی تھیں۔
![]() | |
انہوں نے کہا کہ جو آٹھ افراد شدید زخمی ہیں ان میں سے چار پانچ تو بے ہوشی کے عالم میں نکالے گئے ہیں اور باقی تکلیف سے چلا رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کٹر کے ذریعے بس کی باڈی اور سیٹیں کاٹ کر لاشیں نکالی ہیں۔
ایک امدادی کارکن محمد فاروق اس واقعہ کی بات سناتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے انہوں نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی جل کر مرے ہیں اور عورتیں ایسے چیخ رہی تھیں کہ ان آوازیں کان کے پردے چیرتی معلوم ہوتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ لاشیں اٹھاتے تھے تو کئی ہلاک ہونے والوں کے اعضا ٹوٹ کر گر جاتے تھے۔
قریب ہی واقع ایک چھوٹے سے نجی کلینک کے ڈاکٹر الحاج صفدر شہزاد نے بتایا کہ زخمی ان کے کلینک میں آنے لگے ان کے جسم جلے ہوئے تھے ان کے جسم سے ان کے کپڑے جل کر چپکے ہوئے تھے اور وہ انہیں ہاتھ لگاتے تھے تو ساتھ ہی ان کی کھال بھی اتر جاتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ زخمیوں کی بری حالت تھی انہوں نے انہیں طبی امداد بھی دی اور ایمبولینسوں میں سوار کرواکر ہسپتالوں تک پہنچایا۔
پولیس ترجمان کے مطابق اب تک جن نو افراد کی شناخت ہوسکی ہے ان میں ایک ماں اور اس کی دو بییٹاں اور ایک میاں بیوی شامل ہیں۔