Saturday, 10 December, 2005, 01:53 GMT 06:53 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
ننھے بچوں کے ذہن کافی کچے ہوتے ہیں۔ وقت اور واقعات ان پر اپنا اثر چھوڑتے جاتے ہیں۔ یہی کچھ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے بچوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اپنے اردگرد کے حالات کو دیکھ کر وہ بھی اثر لے رہے ہیں۔
یہ صورتحال گزشتہ روز بالاکوٹ کی تحصیل شوہال میں ناران اور کاغان سے آئے ہوئے متاثرین زلزلے کے بچوں کے لئے قائم ایک خیمہ سکول کے طلبہ سے بات کر کے واضح ہوئی۔
آئیلیپ نامی ایک غیرسرکاری تنظیم کے قائم کردہ اس دو خیموں کے عارضی سکول میں پہلی سے چوتھی جماعت تک کے ایک سو بیس بچے زیر تعلیم ہیں۔ ساٹھ طلبہ کے لئے ایک خیمہ جگہ کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے لیکن یہاں پڑھنے والے بچوں کو اس سے سروکار نہیں۔
وہ خوش دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں پیار اور شفقت کے علاوہ یہاں کھانے کو بسکٹ اور پینے کو جوس جبکہ کھیلنے کو کھلونے بھی ملتے ہیں۔
بچوں سے پوچھا کہ پہلے گاؤں کا سکول بہتر تھا یا اب کا، تو ان کا یک زبان جواب تھا کہ موجودہ۔ تاہم پہلی جماعت کے یہ طالب علم اس کی وجہ بیان نہیں کر سکے۔ ظاہر ہے گاؤں کے سرکاری یا نجی سکول میں اتنا آزاد ماحول یا سہولتیں کہاں دستیاب ہوتی ہیں۔
بچوں سے پوچھا کہ کیا واپس جا کر وہ پرانے سکول میں پڑھیں گے تو ان میں سے چند نے کہا ہاں جبکہ کئی کا جواب تھا کہ ان کا سکول اب رہا ہی نہیں۔
لیکن میرے اس سوال پر کہ بڑے ہوکر وہ کیا بننا پسند کریں گے اکثر نے کہا کہ وہ استاد بن کر پڑھائیں گے۔ لیکن ایک بچے حمزہ کے جواب نے مجھے چونکا دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ فوجی بنے گا۔ فوجی بننے کی وجہ اس نے ان کا لوگوں کو راشن دینا بتائی۔ یعنی بچوں نے آج کل فوجیوں کو راشن دیتے دیکھ کر یہ اثر لیا کہ وہ بہت طاقتور ہوتے ہیں جو لوگوں کو راشن دے کر بچاتے ہیں۔
تاہم عاشق نے کہا کہ وہ پولیس والا بننا زیادہ پسند کرے گا۔ کہا وہ بھی تو مارتے ہیں جواب دیا: ’میں نہیں ماروں گا۔ میں اچھا پولیس والا بنوں گا۔‘
ان بچوں نے اپنی چھوٹی سی زندگیوں کے ابتدائی برسوں میں یا تو استاد کو دیکھا تھا کہ وہ بہت بااثر اور طاقت والا ہے یا پھر اب انہیں فوجیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ ہر کوئی انہیں اپنے زاویے سے ماپ رہا ہے۔
اس سکول کے ایک اہلکار محمد مشتاق سے پوچھا کہ ان سہولتوں کے بعد کیا یہ ممکن ہوگا کہ یہ بچے اپنے پرانے سکول کے ماحول میں ایڈجیسٹ ہوسکیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے زلزلے کے بعد سکول کے نام سے اتنے خوفزدہ تھے کہ یہاں آنا نہیں چاہتے تھے۔ ’یہ سہولتیں تو ان کا خوف ختم کرنے کے لئے دی جا رہی ہیں۔‘
ان بچوں کا خوف تو شاید کم ہو جائے لیکن اپنے اردگرد کے واقعات ان کے ذہنوں سے کم ہی ہٹ پائیں گے۔