http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 09 December, 2005, 11:54 GMT 16:54 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردوڈاٹ کام، کراچی

سندھ میں ضمنی انتخابات کاانعقاد

سندھ میں سنیچر کو دو صوبائی اور ایک قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔ یہ تینوں نشستیں حکمران جماعت کے امیدواروں نے خالی کی ہیں۔

یہ انتخابات قومی اسمبلی کے حلقے دو سو دس کشمور اور صوبائی حلقوں پی ایس ایک سو سترہ اور ایک سو بیس میں ہو رہے ہیں ۔

قومی اسمبلی کی نشست سلیم جان مزاری اور پی ایس سترہ کمال مصطفیٰ کے ناظم بننے کے بعد خالی ہوئی تھیں جبکہ پی ایس ایک سو بیس متحدہ کے رکن اسمبلی علی بن حامد کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ حیدرآباد کے ضلع ناظم کنور نوید کی خالی کردہ نشست پر متحدہ کے امیدوار خالد بن ولایت بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔

سب سے زیادہ دلچسپ اور کشیدہ صورت حال کشمور میں ہے۔ قومی اسمبلی کی اس نشست پر حکمران جماعت کے امیدوار میر غالب ڈومکی اور پی پی پی کے میر عمران بجارانی میں مقابلہ ہے۔

غالب ڈومکی بھی پی پی پی کے سابق اسمبلی ممبر ہیں بعد میں انہوں نے وفاداری تبدیل کی ۔ میر عمران بجارانی ایم این اے میر ہزار خان بجارانی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

دونوں امیدواروں کی حمایت میں یہاں کے قبائل بھی بٹے ہوئے ہیں۔ اسی کے
پیش نظر اس حلقے میں چھپن پولنگ اسٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے ۔

کراچی میں پی ایس ایک سو سترہ پر متحدہ کے امیدوار صغیر شیخ کے مدمقابل پی پی پی کے پیر عبدالرشید ہیں۔ اسی طرح پی ایس ایک سو بیس پر متحدہ کے امیدوار نشاط ایم ضیاء کا مقابلہ پی پی پی کے احمد وسیم علوی کر رہے ہیں۔

گزشتہ عام اور بلدیاتی انتخابات میں متحدہ کی سب سے بڑی حریف جماعت اسلامی اور ایم ایم اے دھاندلی کے الزامات لگا کر ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کرچکی ہیں اس لیے انتخابات میں اتنی گہماگہمی نظر نہیں آرہی ہے۔