Thursday, 08 December, 2005, 15:24 GMT 20:24 PST
برطانیہ کے دارالامراء میں لاء لارڈز نے تشدد سے حاصل کی گئی گواہی کو ناقابل قبول کہا ہے۔
لاء لارڈز نے کہا کہ دہشت گردی کے ملزمان سے خفیہ طور پر تشدد کر کے ملنے والی معلومات کو عدالتوں میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
لاء لارڈز کے اس فیصلے کے بعد برطانوی وزیر داخلہ کو ان تمام مقدمات کا از سر نو جائزہ لینا پڑے گا جن میں تشدد کے ذریعے معلومات حاصل کی گئی ہوں گی۔
یہ فیصلہ ان آٹھ افراد کے لیے بھی ایک کامیابی ہے جنہیں بغیر فرد جرم عائد کیے حراست میں رکھا گیا تھا۔
وزیر داخلہ نے کہا وہ لاء لارڈم کے اس فیصلہ کو قبول کرتے ہیں اور اس کا حکومت کی انسدا دہشت گردی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی معلومات استعمال نہیں کرتی جو تشدد سے حاصل کی گئی ہوں یا جن کے بارے شبہ ہو کہ وہ اس طریقے سے ملی ہیں۔