Thursday, 08 December, 2005, 22:40 GMT 03:40 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان میں قلات اور نوشکی کے مابین پہاڑیوں میں فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستوں نے مبینہ کارروائی شروع کی ہے جس میں سات مشتبہ افراد کے حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے۔
یہ کارروائی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں اور راکٹ باری کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف شروع کی گئی ہے لیکن سرکاری سطح پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا رہا۔ تاہم صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے دو روز پہلے کہا تھا کہ بم دھماکوں اور راکٹ باری کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔
قلات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سات سو سے ایک ہزار ایف سی کے اہلکار اس کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ کارروائی مبینہ طور پر ضلع کوئٹہ قلات اور خاران کی سرحدوں پر واقع پہاڑی سلسلے میں کی جا رہی ہے۔
قلات سے مقامی صحافی محمود آفریدی نے بتایا ہے کہ ایف سی کے اہلکاروں نے گوربرات کے مقام پر کیمپ قائم کر دیا ہے جہاں ہیلی کاپٹروں نے پروازیں کی ہیں۔ اس کے علاوہ جووان اور دلبند کے علاقے کی طرف ایف سی کے اہلکاروں نے حرکت شروع کر دی ہے۔
دلبند کے علاقے میں عید سے پہلے نا معلوم افراد نے ایک مائنگ کمپنی کی مشینری کو آگ لگا دی تھی اور مزدوروں سے کہا تھا کہ یہاں سے فی الفور چلے جائیں۔ اس واقعہ کی ذمہ داری آزاد بلوچ نامی ایک شخص نے بلوچ لبریش آرمی کی طرف سے قبول کی تھی۔
گزشتہ دنوں ایک نامعلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام میرک بلوچ بتایا تھا اور کہا تھا کے نوشکی کے علاقے میں ایف سی کے اہلکاروں نے کارروائی کا آغاز کیا ہے اور اگر اس کارروائی میں کسی عام بلوچ کو نقصان پہنچا تو وہ اس کا جواب ضرور دیں گے۔
دریں اثناء جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں ایف سی کی کارروائی سے ان کے دعوے کو تقویت ملی ہے کہ بلوچستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جن مقامات پر فراری کیمپوں کے ہونے کی خبریں شائع ہوئی ہیں وہ مسلم لیگ کے منتخب نمائندوں کے حلقے ہیں جہاں کارروائی ہونی چاہیے۔ ان میں سبی تلی مچھ بولان اور شوران کے علاقوں کے نام شامل ہیں۔