Wednesday, 07 December, 2005, 11:09 GMT 16:09 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مانسہرہ
کشمیر اور ہزارہ میں درجہ حرارت توقع کے مطابق نقطہ انجماد کو پہنچ چکا ہے۔ زلزلہ متاثرین کی اکثریت خیموں میں مقیم ہے، بڑی تعداد میں لوگ پیٹ، جلد اور سینے کے انفیکشن کا شکار ہیں اور مرد اپنے کام کاج کو چھوڑ کر بیوی بچوں کی دیکھ بھال کررہے ہیں۔
آٹھ اکتوبر کے ڈیڑھ منٹ کے زلزلے نے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی ڈیڑھ سو سال کی کمائی کو خاک میں ملادیا۔ ان کے آباؤ اجداد کے زمانے سے بنے ہوئے مکان اور نسل درنسل جمع کیا گھریلو سامان ختم ہوگیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مکانوں، سکولوں اور دوسری عمارتوں کے نیچے دبنے سے تقریباً نوے ہزار لوگ ہلاک ہوئے اور تقریبا اتنے ہی زخمی ہوئے۔
زلزلہ کے فوراً بعد پنجاب اور کراچی سے عام لوگوں نے کھانے پینے کی چیزیں، کمبل اور گرم کپڑے ٹرک بھر بھر کے متاثرہ علاقوں میں پہنچائے۔ ان جگہوں پر بوتل بند پینے کے صاف پانی اور پاسچرائزڈ دودھ کے ڈبوں کے اتنے ڈھیر لگ گئے کہ بعض لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ متاثرین کے پاس اس وقت بھی ایک مہینے کا راشن موجود ہے۔
![]() | |
| اغورہ بندے کے کچھ لوگ |
![]() | |
| زلزلے میں گاؤں کے تمام مکانات تباہ ہو گئے |
تاہم میں نے مانسہرہ اور بٹگرام میں خود ایسے دیہات دیکھے جہاں چار چار خاندانوں کے پاس صرف ایک خیمہ ہے۔ ابھی پہاڑی دیہاتوں میں لوگوں کی ایک تعداد ایسی ہے جس کے پاس دو مہینے گزر جانے کے بعد بھی خیمے بھی نہیں ہیں۔ ان لوگوں نے پولی تھین اور پرانی چادروں کو ملا کر سر پر ایک سائبان بنایا ہے جو ظاہر ہے سرد ہواؤں کو نہیں روک سکتا۔
وزیراعظم شوکت عزیز اور دیگر سرکاری لوگ بار بار یہ کہتے رہے کہ پہاڑی علاقوں کے لوگ اپنی جگہیں چھوڑ کر نیچے خیمہ بستیوں میں آجائیں لیکن بہت کم لوگ وہاں آئے۔ خیمہ بستیاں بہرحال کئی جگہوں پر موجود ہیں۔
پہاڑی لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنا ملبہ کے نیچے دبا ہوا سامان، اپنے مویشی اور اپنے کھیت چھوڑ کر خیمہ بستیوں میں نہیں جاسکتے۔ جب زلزلہ آیا تو آلو کی فصل تیار تھی اور گندم بیجنے کا موسم تھا۔ قبائلی معاشرے میں عورتوں کے سخت پردہ کے پابند ان لوگوں کوخیمہ بستیوں کا پر ہجوم رہن سہن بھی قابل قبول نہیں۔
خاص طور پر کراچی سے رضاکار ڈاکٹر بڑی تعداد میں متاثرہ علاقوں میں کام کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ جگہ جگہ غیرملکی اور ملکی ڈاکٹروں کے طبی کیمپس لگے ہوئے ہیں۔ دواؤں اور طبی علاج معالجہ کی کمی نہیں۔
نومبر کے آخری دنوں میں زلزلہ زدہ علاقوں میں دوسرا بڑا چیلنج سامنے آیا۔ دو روز کی بارش اور چند گھنٹے کی ہلکی برفباری نے خیموں کی افادیت ختم کردی۔ خدشے کے عین مطابق کئی علاقوں میں خیمے گر گئے، ان میں بارش کا پانی جمع ہوگیا اور وہ سرد ہواؤں کو نہیں روک سکے۔
خیمہ بستیوں میں رہنے والے پیٹ اور سینے کے انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق خارش اور زخموں کے انفیکشن کی بیماریاں عام ہیں۔ خیمہ بستیوں میں ٹائلٹ نہیں، صفائی نہیں۔ سردی سے خصوصاً بچوں میں سانس کی نالی کا انفیکشن بڑھ رہا ہے۔ تاہم ابھی بڑے پیمانے پر نمونیا یا پھیپھڑوں کا انفیکشن نہیں پھیلا۔ آنے والے مزید سرد دنوں میں اس کا خدشہ ہے۔
ان دنوں حکومت متاثرین میں پچیس ہزار کے چیک تقسیم کرنے میں مصروف ہے۔ سکولوں کے اساتذہ، پٹواری اور فوجی جوان مکانوں کا سروے کررہے ہیں۔ ایک تھوڑی تعداد میں لوگوں کو چیک مل گئے ہیں جن کے جمع کرانے والوں کی لمبی قطاریں ایبٹ آباد، مانسہرہ اور بٹگرام کے بنکوں کے باہر دیکھی جاسکتی ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں وسط دسمبر سے اپریل تک برفباری ہوتی ہے۔ ان چار مہینوں میں ان لوگوں کی بقا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ فوری طور پرمستقل مکان تعمیر نہیں کیے جاسکتے۔ جستی چادروں سے عارضی جھونپڑے یا کیبن ایک دن میں تیار ہوجاتا ہے۔ کچھ جگہوں پر غیر سرکاری اداروں اور مخیر کاروباری لوگوں نے جستی چادریں پہنچائی ہیں لیکن حکومت کا کام بہت سست رفتار سے چل رہا ہے۔
زلزلے کے فوری بعد عام لوگوں کی امداد سے متاثرہ علاقے کسی بڑی تباہی سے بچ گئے گو امدادی سامان پہاڑی علاقوں تک کم پہنچا۔ شروع کے چند روز چھوڑ کر لوگوں کو کسی بڑی مشکل سے دوچار نہیں ہونا پڑا۔ کوئی وبا بڑے پیمانے پر نہیں پھوٹی، لوگ بھوک سے نہیں مرے۔
![]() | |
| دسمبر کی شدید سردی میں خیموں میں گزارا کیسے ہوگا؟ |
حکومت کا پراپیگینڈا زیادہ اور کام کم نظر آتا ہے۔ پہلے چیلنج کی طرح اس دوسرے چیلنج سے بھی پاکستان کے عوام ہی بہتر طور پر نمٹ سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عام لوگوں نے جس طرح راشن اور کپڑے متاثرہ لوگوں کو پہنچائے تھے کیا وہ جستی چادریں بھی انہیں پہنچاسکیں گے یا نہیں۔