Monday, 05 December, 2005, 05:10 GMT 10:10 PST
امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلی نے کہا ہے کہ واشنگٹن ان اطلاعات کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ القاعدہ کے رہنما ابوحمزہ ربعیہ کو پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ انہوں نے ایسی رپورٹ دیکھی ہیں جن میں دعوی کیا گیا ہے کہ القاعدہ کے رہنما ابوحمزہ ربیعہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ اس کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن امریکہ اس کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
ادھر پاکستان اصرار کر رہا کہ القاعدہ کے رہنما جو ان کے مطابق اللبی کی گرفتاری کے بعد القاعدہ کے آپریشنل کمانڈر تھے، بدھ کے روز ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
جنرل پرویزمشرف نے جو مشرق وسطی کے ممالک کے دورے پر ہیں، کہا ہے کہ وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ابو حمزہ ربعیہ ہلاک ہو چکا ہے۔
جنرل مشرف نے کویت میں کہا ’ کل میں نے کہا تھا کہ میں دو سو فیصد یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ القاعدہ کے رہنما ہلاک ہو چکا ہے۔ آج میں پانچ سو فیصد یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ القاعدہ کے رہنما کو ہلاک ہو چکا ہے‘
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ امریکہ ڈی این اے ٹیسٹ کے انتظار میں القاعدہ کے رہنما کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کا کسی رہنما کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق کرنے کا انداز کچھ ’دیسی‘ ہے لیکن وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ابو حمزہ ربیعہ کو ہلاک ہو چکا ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ اللبی کی گرفتاری کے بعد ربعیہ القاعدہ کی تنظیم میں اہم عہدے پر فائز ہو گئے تھے۔
العربیہ ٹیلیوژن چینل نے خبر دی ہے کہ ایک القاعدہ کے ایک رہنما نے ان کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص ابو حمزہ ربعیہ نہیں تھے۔
ادھر امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق پاکستان نے جس القاعدہ کے رہنما کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے وہ بغیر پائلٹ کے پرواز کرنے والے امریکی ڈرون سے فائر کیے جانے میزائیل کے نتیجے میں ہلاک ہو ئے ہیں۔