Monday, 05 December, 2005, 17:09 GMT 22:09 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو سروس
شمالی وزیرستان سے اطلاعات کے مطابق ایک قومی اخبار کے صحافی حیات اللہ داور کو نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کر لیا ہے۔
حیات اللہ کے بھائی احسان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پانچ مسلح نقاب پوش ایک گاڑی میں آئے اور ان کے بھائی حیات اللہ کو اٹھا کر لے گئے۔
اس سے قبل اتوار کو درہ آدم خیل میں ایک مقامی صحافی دو مسلح گروپوں کے مابین فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
صحافی کی ہلاکت اور فاٹا میں صحافیوں پر تشدد کے خلاف پیر کو
پشاور میں صحافیوں کی ٹرائبل یونین نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں فاٹا کے صحافیوں نے حکومت سے کہا کہ فاٹا میں صحافیوں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
فاٹا کے صحافیوں نے پشاور پریس کلب کے سامنے مظاہرے کے دوران پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف قسم کے نعرے درج تھے۔ مظاہرہ میں سات ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں صحافیوں نے حصہ لیا۔
صحافیوں کے ایک دھڑے کے صدر ناصر محمد نے کہا کہ فاٹا میں صحافی حضرات محفوظ نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خاص کر شمالی اور جنوبی وزیرستان میں صحافت سے وابستہ لوگ شدید مشکلات دوچار ہیں اور اکثر صحافی علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ انہوں نےمقتول صحافی کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔