Sunday, 04 December, 2005, 19:57 GMT 00:57 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی مختلف چوکیوں پر راکٹوں اور دستی بموں سے حملوں میں ایک فوجی ہلاک جبکہ ایک مشتبہ حملہ آور بھی مارا گیا۔
افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع پاکستانی قبائلی علاقے وزیرستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران نامعلوم افراد نے کئی مقامات پر سیکورٹی فورسز کی چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
جنوبی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ماندتا کے علاقے میں نیم فوجی ملیشیا کا ایک سپاہی مقامی طور پر تیار کی گئی بارودی سرنگ کے دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔
بعد میں علاقے کی تلاشی کے دوران مشتبہ حملہ آوروں سے گولیوں کے تبادلے میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں ایک اور مشتبہ عسکریت پسند گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
ادھر شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے پچیس کلومیٹر مشرق میں میرعلی بازار چوک میں کل رات نامعلوم افراد نے سیکورٹی فورسز کی ایک چوکی کو چار آرپی جی گولوں سے نشانہ بنایا۔ تاہم اس سے حکام کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایک گولے کے بجلی کی تاروں کو لگنے سے علاقے کی بجلی اٹھارہ گھٹنوں تک معطل رہی۔
ادھر گورنمٹ ہائی سکول ہرمز میں دن نو بجے نامعلوم افراد نے سکاوٹس چوکی پر دستی بم پھینکا جس سے ایک مزدور زخمی ہوا ہے۔
سنیچر کو حکومت کی جانب سے القاعدہ کے ایک رکن ابو حمزہ رابعہ کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد سے علاقے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔