Saturday, 03 December, 2005, 22:18 GMT 03:18 PST
اقوام متحدہ کے ادارے عالمی پروگرام برائے خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیمز مورس نے خبردار کیا ہے کہ کہ اگر خوراک کی فراہمی کے سلسلے کو چلانے کے لیے مزید رقوم نہ ملیں تو جنوری کے بعد ان کا کام معطل ہو سکتا ہے۔
جیمز مورسن نے کہا کہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امداد پہنچانے کا سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے ستر ملین ڈالر کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ رقم مہیا نہ کی گئی تو اگلے ماہ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے امداد پہنچانے کا سلسلہ ختم ہو سکتا ہے۔
زلزلے سے برباد ہونے والے ان پہاڑی علاقوں میں بچ جانے والے لوگوں کو اب شدید سردی اور خوراک کی کمی کا سامنا ہے جس سے نمٹنا امدادی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
کئی امدادی کارکنوں کو خدشہ ہے کہ کہ برباد ہونے والے علاقوں میں جہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر جائے گا اگر وہاں خوراک اور گرم کپڑوں کی فراہمی جاری نہ رکھی گئی تو موت کا ایک اور دور آئے گا جس میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔
جیمز مورس نے کہا کہ ان کے پاس اتنی رقم فی الحال ہےجس کے ذریعے وہ جنوری تک خوراک کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے مگر اپریل تک، یعنی پوری سردیوں پر زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کی فراہمی کےلیے انہیں چھ سے سات کرروڑ ڈالر کی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا اگر یہ رقم نہ ملی تو اگلے ماہ سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کی ترسیل کرنے والے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بند ہو جائیں گی۔
جیمز مورسن کا کہنا ہےکہ عالمی پروگرام برائے خوراک کو خوراک کی ترسیل کے حوالے سے دشوار ترین قدرتی آفت کا سامنا ہے۔
اگرچہ پاکستان حکام کا بار بار اصرار ہے کہ حالات قابو میں ہیں مگر بین الاقوامی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی خوش فہمی سے دنیا کی توجہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں سے ہٹ سکتی ہے خاص کر ایسے وقت میں جب سردیوں کی وجہ متاثرین کو امداد کی سخت ضرورت ہے۔