Friday, 02 December, 2005, 09:04 GMT 14:04 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
صوبہ بلوچستان کے شہر نصیر آباد کی تحصیل ڈیرہ مراد جمالی میں نا معلوم افراد نے ایک پیش امام کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
آج صبح علامہ بدرالدین موٹر سائکل پر اپنے بیٹے حسنین کو سکول لے جارہے تھے کہ سکول کے کے قریب نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد کا ہی ایک واقعہ ہے تاہم اس بارے میں مذید تفتیش کی جا رہی ہے۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس یعقوب بٹ نے کہا ہے ایک حملہ آور سامنے آیا ہے اور پستول سے فائر کیے ہیں۔علامہ بدرالدین مقامی شیعہ مسجد میں پیش امام تھے اورضلعی متولی بتائے گئے ہیں۔
دریں اثنا ایک نا معلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام ضرار بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا ترجمان ہے۔ ضرار نے کہا ہے کہ وہ اپنی تنظیم کی جانب سے اس حملے کی زمہ داری قبول کرتے ہیں۔
نصیر آباد سے مقامی صحافی ہاشم بلوچ نے بتایا ہے کہ نصیر آباد اور قریبی علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پہلے کبھی نہیں ہوئے۔
تحفظ عزاداری کونسل کے مرکزی صدر رحیم جعفری نے کہا ہے کہ دو سال پہلے عاشورہ کے جلوس پر حملے کے بعد سے فرقہ وارانہ تشدد کے کئی واقعات ہو چکے ہیں لیکن انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بڑے واقعات کے بعد حملہ آوروں نے ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔