Thursday, 01 December, 2005, 22:55 GMT 03:55 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں مقامی انتظامیہ نے زمینوں پر غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔
گوادر کی نئی انتظامیہ نے نیو ٹاؤن کے علاقے میں جمعرات کے روز غیر قانونی طور پر قائم کی گئی ڈیڑھ سو جھونپڑیاں اور تین چار دیواریوں پر بلڈوزر پھیر دیا۔
اس موقع پر وہاں موجود لوگوں نے احتجاج کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق نیو ٹاؤن کے علاقے میں دوہزار سے زیادہ غیر قانونی قابضین ہیں جن سے پلاٹ خالی کرانا ہے۔ تحصیل گوادر کے ناظم ماجد سہرابی نے کہا ہے کہ ٹاون شپ کے چاروں فیزز میں غیر قانونی قابضین موجود ہیں لیکن ابتدا وہاں سے کی گئی ہے جہاں فی الحال کوئی آباد نہیں ہے اور جھونپڑیاں خالی پڑی ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں قابضین کو جگہ خالی کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔
قابضین کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ چار سال سے یہاں رہ رہے ہیں اور سابق انتظامیہ نےانھیں کہا تھا کہ وہ رقم جمع کراکے یہاں رہ سکتے ہیں۔ ان لوگوں نے کہا کہ وہ روزگار کی خاطر مکران ڈویژن کے مختلف علاقوں سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان سے معاوضہ لے کر انھیں یہاں رہنے دیا جائے۔
گوادر کےتحصیل ناظم ماجد سہرابی نے کہا ہے کہ یہ ٹاون شپ انیس سو اسی کی دہائی میں میونسپل کمیٹی نے شروع کی تھی۔ چونکہ اس وقت گوادر کی زمین کی اتنی اہمیت نہیں تھی لہذا جن لوگوں کو زمین الاٹ ہوئی انھوں نے کوئی تعمیر نہیں کی اور اب جبکہ گوادر کی زمین کی قیمت بڑھ گئی ہے ہر کوئی کسی نہ کسی طریقے سے اس زمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ لیکن جو زمین کے اصل حقدار ہیں ان کا حق انھیں ضرور دلایا جائے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی کی نسبت اب اس ساحلی علاقے میں زمینوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے لیے اس وقت گوادر میں زمینوں پر قبضہ کرنے والے بااثر افراد بھی موجود ہیں۔