Tuesday, 29 November, 2005, 12:35 GMT 17:35 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے خصدار میں فوجیوں پر حملے کے الزام میں پانچ ملزمان کو سزائے موت اور ایک کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔
منگل کے روز جب فیصلہ سنایا گیا اس وقت تک تین ملزمان گرفتار اور تین مفرور ہیں۔ گرفتار ملزمان میں سے ایک کو ان الزامات سے بری کر دیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ تین مفرور ملزمان کو ان کی غیرحاضری میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ان ملزمان کو دیگر مقدمات میں بھی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان ملزمان کے وکیل کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف وہ ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔
یہ واقعہ بلوچستان کے شہر خصدار میں گزشتہ سال یکم اگست کو پیش آیا تھا جب نامعلوم افراد نے گاڑی پر حملہ کیا جس میں پانچ فوجیوں سمیت چھ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔
خصدار پولیس کے مطابق چھٹی کے روز سبز گاڑی میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار خریداری کے لیےکہیں جا رہے تھے کہ ندی کے قریب کچے کے علاقے میں گھات لگائے بیٹھے نا معلوم افراد نے کلاشنکوف سے فائرنگ کر دی جس سے پانچ فوجیوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ اس واقعہ میں سابق وزیراعلی بلوچستان اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر مینگل کو بھی پولیس رپورٹ میں نامزد کیا گیا تھا لیکن بعد میں ان کا نام واپس لے لیا گیا تھا۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ سردار اختر مینگل کے خلاف مقدمہ بنتا ہی نہیں تھا۔