Monday, 28 November, 2005, 15:45 GMT 20:45 PST
ہارون رشید،
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کی مدد کے الزام میں مطلوب پینتیس عسکریت پسندوں اور حکومت کے درمیان امن معاہدہ طے پایا ہے۔
میران شاہ میں پیر کو پولیٹکل ایجنٹ ظہیر الاسلام اور داوڑ وزیر اور اتمانخیل قبائل کے ایک جرگے کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا۔ معاہدے کے لیے حکام کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے کوششیں جاری تھیں۔
تاہم اس معاہدے کے ان پینتیس مطلوب افراد نے حکومت کو القاعدہ یا طالبان سے روابط نہ رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم اس معاہدے میں حکومت کو مطلوب اہم شخصیت مولانا صادق نور شامل نہیں ہیں۔ سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے نام لے کر صادق کو باقاعدہ مطلوب قرار دیا تھا۔
یہ لوگ حکومت کو فوجی ٹھکانوں پر راکٹوں سے حملوں کے واقعات میں بھی مطلوب تھے۔ مولانا صادق نور کا مکان بھی سیکورٹی دستوں نے گزشتہ ماہ
گرا دیا تھا۔
پیر کو حکومت کو پرامن رہنے کی یقین دہانی کرنے والے پینتیس اہم افراد میں مولانا دین دار، مولانا سلیم گل، شریف اللہ اور مولانا عبدالرحمان شال ہیں۔ ان میں اکثریت کا تعلق جمعیت علما اسلام (ف) سے ہے۔ ان افراد کو یقین دہانی نے بعد رہا کر دیا گیا۔
یہ معاہدہ بھی جنوبی وزیرستان میں حکومت کی قدرے کامیاب پالیسی کا بظاہر تسلسل دکھائی دیتا ہے جہاں ہر قبیلے کے ساتھ الگ الگ امن معاہدے کر کے حکومت نے انہیں القاعدہ یا طالبان کی مدد سے روک دیا۔
جنوبی وزیرستان میں ان معاہدوں کے بعد صورتحال مجموعی طور پر پرامن ہوگئی تھی تاہم کئی مقامات پر اب بھی حکومت اور ان قبائل کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔