Monday, 28 November, 2005, 17:41 GMT 22:41 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
برطانیہ نے صدر پرویز مشرف کی حکومت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ صدر مشرف جمہوری عمل کی بہتری کےلیے کوشاں ہیں۔
برطانیہ کے بیرون امور کے مملکتی وزیر ڈاکٹر کم ہاویل نے پیر کو کراچی میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور پاکستانی عوام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لندن بم دھماکے عیسائیوں یا اور کسی کے خلاف نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف تھے۔ ان دھماکوں سے انیس ممالک کے لوگ متاثر ہوئے تھے۔
ڈاکٹر کم ہاویل نے کہا کہ’ ہم مثبت سرگرمیوں میں مصروف مدرسوں کے خلاف نہیں ہیں مگر جو مشکوک مدرسے ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے‘۔
انہوں نے تجویز دی کہ مدرسوں کے نصاب میں تبدیلی لائی جائے اور نصاب میں حساب اور سائنس سمیت جدید علوم شامل کیے جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں بیس لاکھ مسلمان آباد ہیں جن کی جان اور مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت نسل اور قوم سے بالاتر ہوکر سوچتی ہے۔
برطانوی وزیر نے نام نہاد غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کو اہم مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی روک تھام کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق عورت انسانی آبادی کا نصف حصہ ہیں انہیں ہنر مندی کی تربیت فراہم کرنی چاہیے۔
اس سوال پر کہ کیا عراق میں مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں؟ ڈاکٹر کم ہاویل نے کہا کہ یہ الگ معاملہ ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ عراق میں سیاسی استحکام کے لیے اقتدار حقیقی عوامی رہنماؤں کے حوالے کی جائے۔
کراچی میں امن امان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہاں سکیورٹی کا نظام بہتر ہے اور انگلینڈ اور پاکستان کے مابین کراچی میں میچ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ مجاز اتھارٹی کرےگی۔
ڈاکٹر کم ہاویل نے بتایا کہ امریکہ کے بعد برطانیہ دوسرا بڑا ملک ہے جس نے پاکستان میں زلزلہ زدگان کی سب سے زیادہ مدد کی ہے اور ان کے آنے کا مقصد بھی یہ ہی تھا کہ اس سلسلے میں مزید کیا کیا جاسکتا ہے۔