http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 25 November, 2005, 19:22 GMT 00:22 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

بلوچ پارٹی کے قیام کے لیے مذاکرات

سنگل بلوچ قوم پرست جماعت کی تجویز کے حوالے سے دیگر بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اس بارے میں جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نےمذ اکرات کو حوصلہ افزا اور مثبت قرار دیا ہے۔

جمہوری وطن پارٹی کا ایک وفد ان دنوں کراچی میں نواب خیر بخش مری اور سردار عطاءاللہ مینگل سے مذاکرات کر رہا ہے۔ نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں سے دو دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن میں ان رہنماؤں نے کچھ خدشات کا اظہار کیا ہے۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ اس بارے میں کوئٹہ میں ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں تمام بلوچوں کو مدعو کیا جائے گا اور اس کانفرنس میں جماعت کے اغراض و مقاصد طے کیے جائیں گے۔

اس جماعت کے فیصلے سب لوگ مل کر کریں گے۔ان سے جب پوچھا کہ آیا یہ جماعت پارلیمانی طرز حکومت کے مطابق ہوگی تو انھوں نے کہا ہے کہ اس کا فیصلہ بھی بلوچ خود کریں گے۔

جمعہ کے روز ڈیرہ بگٹی میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواب بگٹی نے کہا ہے کہ سردار عطاءاللہ مینگل نے اس جماعت کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ کہا ہے کہ بلوچ اس وقت دشمنوں کے نرغے میں ہیں اور ان دشمنوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ سنگل بلوچ جماعت کی تجویز کوئی پہلی مرتبہ نہیں پیش کی گئی اس سے پہلے بھی اسی طرح کی کوششیں کی جا چکی ہیں ان میں یوسف بلوچ کا نام نمایاں ہے جبکہ نیپ بھی اسی کوشش کا ہی ایک نتیجہ تھی۔

ان دنوں سینیٹر امان اللہ کنرانی یہاں کوئٹہ میں ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور غلام احمد بلوچ سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جبکہ آغا شاہد بگٹی نواب خیر بخش مری اور سردار عطاءاللہ مینگل سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں حالات کشیدہ ہیں جہاں مزید نیم فوجی دستے کے اہلکار پہنچ گئے ہیں جبکہ صوبہ سندھ اور پنجاب کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ نیم فوجی دستے کے اہلکار بڑے اسلحے کی نمائش کررہے ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ نے ہندو برادری اور غیر مقامی سرکاری ملازمین کو پیغام دیا ہے کہ وہ ڈیرہ بگٹی سے چلے جائیں۔اب اس پیغام کا مقصد نفسیاتی جنگ ہے اور یا کوئی بڑی کارروائی متوقع ہے اس کا پتہ نہیں ہے۔