http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 24 November, 2005, 00:16 GMT 05:16 PST

’قانون پر نظرثانی ضروری ہے‘

وفاقی وزیر اعجاز الحق نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے متنازعہ قانون پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کا اکثر ذاتی حساب چکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ بعض اوقات یہ قانون مسلمانوں کے خلاف بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اس سے پہلے انگلستان کے مذہبی رہنما آرچ بشپ آف کینٹربری، ڈاکٹر روون ولیمز نے، جو آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں، ملک کے صدر سے اپیل کی تھی کہ توہین رسالت کے قانون پر از سر نو غور کیا جانا چاہئیے۔

اس متنازعہ قانون کے تحت توہین رسالت کے مرتکب شخص کو سزائے موت دی جا سکتی ہے جبکہ پاکستان کی مسیحی آبادی کا کہنا ہے کہ اس قانون کا ان کے خلاف غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

پچھلے ہفتے بھی پاکستان میں سانگلہ ہل کے علاقے میں ایک عیسائی شخص پر اس الزام کے بعد کہ اس نے مبینہ طور پر قران کو آگ لگائی تھی، ایک ہجوم نے ایک چرچ اور کونوینٹ سکول کو آگ لگادی تھی۔

ڈاکٹر ولیمز کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ قانون ذاتی انتقام کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ شائد خود قانون میں نہیں بلکہ اس کے لئے رکھی گئی سخت ترین سزا اور جس طرح عملی طور پر اس کا استعمال کیا جارہا ہے، اس سے ہے۔

ڈاکٹر ولیمز نے کہا کہ انہوں نے صدر جنرل مشرف سے کہا ہے کہ وہ اس قانون کے عملدرآمد کی نگرانی کروائیں۔