Monday, 21 November, 2005, 11:39 GMT 16:39 PST
عبدالحی کاکڑ
پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تین مختلف دھماکوں میں سکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
تینوں دھماکےشمالی وزیرستان کےمرکز میراں شاہ سے چالیس کلومیٹر مشرق میں واقع میرعلی بازار میں تین مختلف چیک پوسٹوں میں ہوئے ہیں۔
اسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ کےدفتر کے ایک اہلکار شاہد نسیم نے دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پہلا دھماکہ پیر کی صبح آٹھ بجے ایک پٹرول پمپ کے سامنے موجود چیک پوسٹ میں ہوا جس میں پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔
دوسرا دھماکہ میر علی بازار کے شمال میں حیدر خیل گاؤں کے سکاوٹ چیک پوسٹ پر جبکہ تیسرا دھماکہ گیارہ بجکر پینتالیس منٹ پر ایک تیسری چیک پوسٹ میں ہوا مگر آخری دونوں دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
زخمیوں کو علاج کے لیے میراں شاہ ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ شاہد نسیم کے بقول تینوں دھماکوں میں بظاہر ریموٹ کنٹرول بم استعمال ہوئےہیں لیکن تاحال کسی نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔
حالیہ دھماکے ایک طویل عرصے کے بعد ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوج شمالی اور جنوبی وزیرستان میں غیر ملکیوں اور مبینہ مقامی جنگجوؤں کےخلاف آپریشن میں مصروف ہے۔
میر علی بازار کے دھماکے ان چیک پوسٹوں پر ہوئے ہیں جو علاقہ میں اسلحہ کی نقل وحرکت کے روک تھام کے لیے کچھ عرصہ قبل خاص طور پر بنائی گئی ہیں۔