http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 21 November, 2005, 15:21 GMT 20:21 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

بغاوت کے ملزم صحافی کی ضمانت

بغاوت کے الزام میں گرفتار کارکن صحافی کو قید کے ڈھائی مہینے کے بعد لاہور کی مقامی عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

روزنامہ خبریں کے سابق سب ایڈیٹر محمد عابد پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس اخبار میں یکم ستمبر کو جو قابل اعتراض لفظ تین مقامات پر شائع ہوئےتھے وہ مبینہ طور پر ان کے کہنے پر اشاعت میں شامل کیے گئے۔

ان میں سے ایک قابل اعتراض لفظ صدر مشرف کے نام کے ساتھ لگایا گیا تھا جب کے باقی الفاظ کا استعمال بے جوڑ سا تھا۔ محمد عابد نے اس معاملے میں ملوث ہونے کے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔

قابل اعتراض الفاظ پر مقدمہ روزنامہ خبریں کے انتظامی مدیر کی تحریری درخواست پردرج ہوا اور ایک کمپیوٹر آپریٹر(کمپوزر) اظہار اعوان کو اخبار کی انتظامیہ نے اعترافی بیان سمیت پولیس کے حوالے کردیا تھا بعد میں اسی گرفتار کارکن کے پولیس کے روبرو مبینہ بیان پرستمبر کے دوسرے ہفتے میں کارکن صحافی محمد عابد کو گرفتار کیا گیا اور چند روز کے جسمانی ریمانڈ کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں جیل بھجوا دیا گیا۔
پیر کو ان کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران جب محمد عابد کو عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کے وکلاء صفائی محمد یونس ایڈووکیٹ اور افتخار شاہد ایڈووکیٹ نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان پر بغاوت کی جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا اس کے لیے متعلقہ حکومت کا تحریری حکم نامہ موجود ہونا ضروری ہے جو اس کیس کی مثل کے ساتھ موجود نہیں ہے۔

اس کے علاوہ وکلاء نے کہا کہ اس مقدمے میں امتناع آرڈیننس کی جو دفعہ سولہ ایم پی او لگائی ہے وہ دفعہ کسی عام شہری کی درخواست پر نہیں لگائی جاسکتی۔

محمد یونس ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے محمد عابد سے جس فلاپی ڈسک کو برآمد کرنے کا دعوی کیا تھا وہ فلاپی بھی عدالت میں پیشں نہیں کی گئی نہ اس کے میمو پر کسی گواہ کے دستخط تھے۔

ایڈیشنل سیشن جج جہاں داد بانٹھ نے محمد عابد کو ایک لاکھ روپے زر ضمانت کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

محمد عابد کی اہلیہ نےبتایا کہ ابھی کاغذات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے محمد عابد کی رہائی عمل میں نہیں آئی ہے انہوں نے توقع ظاہر کی کہ کل تک کاغذات مکمل ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈھائی مہینے بعد اپنے شوہر کی ضمانت پر رہائی ہونے پر وہ بے حد خوش ہیں اور اسی خوشی میں انہوں نے مٹھائی بانٹی ہے۔ اس مقدمہ کا چالان ابھی عدالت پیش نہیں کیاگیا۔