Friday, 11 November, 2005, 14:42 GMT 19:42 PST
محمد ریاض
پشاور
پاکستان میں صوبہ سرحد کے سینئر وزیر نےدفاعی اخراجات میں کمی کر کے صوبہ میں زلزلہ زدگان کے لیے امداد میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔
صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ممبران کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سرحد حکومت کے سینئر وزیر سراج الحق نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبے کے پانچ اضلاع کے زلزلہ زدگان کے لیے فنڈ مہیا کرے۔
سراج الحق نے کہا کہ زلزلہ سے سڑکیں، عمارتیں اور لوگوں کے ذرائع معاش تباہ ہو جانے کے بعد پاکستان کو اسلحہ خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اس بات کی ضرورت ہے کہ وفاقی حکومت دفاعی اخراجات کی مد میں رکھی گئی رقم متاثرین کی بحالی پر خرچ کرے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے محنت کی ہے اور کئی تلخ معاملات پر نرم رویہ اختیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے کابل کے ساتھ تعلقات بھی اچھے ہیں۔ ان حالات میں دفاعی اخراجات میں کمی کر نے اور متاثرین کی امداد بڑھانے سے عالمی دنیا پر بھی واضح ہوگا کہ پاکستان شدید قدرتی آفت کا شکار ہے۔
صوبائی وزیر نے ریلیف کمیٹی میں منتخب مقامی رہنماؤں کو شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کی ضروریات کے بارے میں کونسلرز، ڈپٹی ناظم، ناظم اور صوبائی ممبران اسمبلی کو سرکاری افسران کی نسبت زیادہ معلومات ہیں۔
سراج الحق نے وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ زلزلہ زدگان کے لیے آنے والی بین الاقوامی امداد کا پچاس فیصد صوبہ سرحد کو دیا جانا چاہیے کیونکہ صوبائی وسائل محدود ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں کی راہ میں حائل مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ اب تک زلزلہ سے متاثر ہونے والے گھرانوں کی امداد کے لیے صوبائی حکومت ایک ارب پینسٹھ کروڑ روپے دے چکی لیکن ’ہمارے نقصانات بہت زیادہ ہیں اور ہمیں فوری طور پر مزید فنڈز کی ضرورت ہے۔‘