Thursday, 10 November, 2005, 13:17 GMT 18:17 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
ہندوستان کا کہنا کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک ملازم کے لڑکے کے مبینہ اغواء کے معاملے کی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ یہ معاملہ ایک شرارت تھا اور اس بارے میں پاکستانی حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں وزارت داخلہ کے دفتر سے ایک بیان جاری کیا گیا۔ بیان کے مطابق پولیس نے پورے معاملے کی تفتیش کی ہے اور اسکا کہنا ہے کہ جس وقت اغواء کے واقعے کا ذکر کیا گيا ہے اس وقت اغواء جیسی کسی بھی واردات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
بیان کے مطابق ’پاکستانی ہائی کمیشن کو مطلع کردیا گیا ہے کہ ہندی زبان میں لکھا روشن علی نے جو خط پیش کیا تھا وہ ان کے اس دوست نے لکھا تھا۔ جو ان کے ساتھ ہی ساؤتھ ایکسٹیشن کے ایک انسٹی ٹیوٹ میں پڑھتا ہے۔ تفتیش سے یہی نتیجہ نکلا ہے کہ مذکورہ واقعہ ایک شرارت تھا‘۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں حکام نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک ملازم کے بچے کے اغواء ہونے کی شکایت بھارت سے کی تھی اور اس پر وضاحت بھی طلب کی تھی۔ شکایت کے بعد ہی ہندوستان میں حکام نے اس معاملے کی تفتیش کے احکامات دیے تھے۔
پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک سینئر افسرنے بی بی سی کو بتایا تھا کہ منگل کو ساڑھے پانچ بجے کالج سے نکلتے وقت چند افراد روشن علی کو گاڑی میں اٹھا کر لے گۓ تھے۔ اس کی آنکھوں پر کپڑا باندھ دیا گیا تھا اور رات بھر اسے نا معلوم جگہ پر رکھا گیا۔
بات چیت کے مطابق بدھ کو دو پہر کے بعد تقریبا ڈھائی بجے اسے انڈیا گیٹ کے پاس رہا کیا گیا تھا جہاں سے وہ پیدل چل کر آیا سفارت خانے آیا۔ اس کی حالت بہت خراب تھی اور وہ بہت پریشان تھا۔