Tuesday, 08 November, 2005, 15:50 GMT 20:50 PST
راجہ ذوالفقار علی اور عارف شمیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
دن: آٹھ اکتوبر
وقت: آٹھ بجکر کر چون منٹ
مقام: پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر
شدت: سات عشاریہ چھ
ہلاکتیں: چوہتر ہزار (سرکاری)، ستاسی ہزار (غیر سرکاری)
پاکستان میں اس سے قبل 1935 میں بھی اسی یا اس سے تھوڑی زیادہ شدت کا زلزلہ آ چکا ہے جس میں کوئٹہ شہر تباہ ہو گیا تھا لیکن آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے نہ صرف پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کو ہلایا بلکہ لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف بھی تباہی پھیلائی۔
آٹھ اکتوبر کا دن پاکستان اور لائن آف کنٹرول کے آر پار رہنے والے لوگ کبھی نہیں بھولیں گے۔
آٹھ اکتوبر کےدن اسلام آباد میں گیارہ ستمبر آیا اور اس جدید شہر کے دو جدید ٹاورز میں سے ایک ملبے کا ڈھیر بنا۔ کئی ہلاک ہوئے اور درجنوں زخمی۔ امدادی کاموں اور ’ریسکیو ٹیموں‘ کی توجہ دارالحکومت تک ہی رہی۔ پہاڑوں سے پرے ابھی دھیان نہیں گیا۔
آٹھ اکتوبر شام: آہستہ آہستہ غم کی شام گہری ہوتی گئی اور جنت نظیر علاقوں سے قہر کی خبریں آنا شروع ہوئیں۔
آٹھ اکتوبر رات: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قیامت کی خبر سنی گئی جو اسلام آباد کے مقابلے میں کہیں زیادہ اور قہر انگیز تھی۔
زلزلے کے فوراً بعد متاثرین کو بچانے کی تمام تر کوشش اسلام آباد تک محدود ہوگئی اور کسی کو علم ہی نہ ہو سکا کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کے دور دراز علاقوں میں کتنی تباہی ہوئی ہے۔
گیارہ اکتوبر: فضائی آپریشن میں تیزی آئی اور جوں جوں امداد بڑھنے لگی اس کے ساتھ ساتھ ہی اجتماعی قبروں میں بھی اضافہ ہوا۔ اب لاشوں کو ملبے تلے نکال کر رکھنے کا وقت نہ رہا اور غم نے کشمیر کے باسیوں کے آنسو بھی پتھرا دیے۔
بارہ، تیرہ، چودہ، پندرہ اکتوبر سے لے کر آج تک: لاشیں سینکڑوں سے ہزاروں ہوئیں اور معذور ہزاروں سے لاکھوں ہو گئے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ہزاروں بچے یتیم۔
![]() | |
| زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد لے جایا جا رہا ہے |
ایک ڈاکٹر کو کہنا پڑا کہ جو پہلے مرحلے میں مر گئے حقیقت میں وہ ہی بچ گئے۔ زمینی حقیقت بھی اس سے کچھ مختلف نظر نہ آئی۔ بچے سب سے زیادہ خطرے میں نظر آئے۔ کئی کئی دن ٹوٹی ہڈیاں اور زخم لے کر زندہ رہنے والے بچوں کے اعضاء میں گینگرین پھیل گئی اور انہیں کاٹنا پڑا۔
لیکن جوں جوں دن گزرے لوگوں نے مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرانا شروع کردیا۔ کئی مقامات پر فوج کے خلاف نعرے بازی ہوئی، اور متاثرین نے سرِ عام فوج پر کڑی تنقید کی۔ یہاں تک کہ صدر مشرف کو قوم سے خطاب میں یہ بات تسلیم کرنا پڑی کہ فوج نے متاثرین تک پہنچنے میں کچھ دیر کی۔
زلزلے سے صرف پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے علاقے ہی متاثر نہیں ہوئے تھے بلکہ بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں بھی بربادی ہوئی تھی۔ دونوں طرف کشمیری مدد کے متلاشی تھے لیکن درمیان میں لائن آف کنٹرول تھی جسے عبور کیے بغیر کسی کی مدد نہیں کی جا سکتی تھی۔
جنوبی ایشیاء میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے اس زلزلے نے عالمی میڈیا کی توجہ بھی اپنی طرف مبذول کروا لی۔ عالمی نشریاتی اداروں اور بی بی سی نے اپنے نامہ نگاروں کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں روانہ کیں جہاں سے دنیا بھر میں ٹیلی وژن پر بربادی کے مناظر دیکھے گئے۔
زلزلے کے بعد جب امدادی کارروائیاں شروع ہوئیں تو موسم کی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں تک جو امداد پہنچا رہے تھے وہ رک گئی۔ موسم کی خرابی کی یہ خبر متاثرہ لوگوں پر بجلی بن کر گری۔ انہیں اس وقت تک کوئی خوراک نہیں مل سکتی تھی جب تک موسم ٹھیک نہ ہوجائے۔
چونکہ حکومت کو کچھ وقت گزرنے کے بعد زلزلے کی شدت کا صحیح اندازہ ہوا تھا لہذا عالمی امداد کے نظام کو مربوط کرنے اور لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے اسلام آباد میں فوج کے ایک افسر کی زیرِ نگرانی ایک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔
پاکستان میں لوگوں نے زلزلہ زدگان کے لیے بھرپور انداز میں امداد دی۔ جگہ جگہ عطیات جمع کرنے کے لیے کیمپ لگائے گئے، فنکاروں، کھلاڑیوں اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے اپنی بساط کے مطابق متاثرین کے لیے رقوم جمع کیں۔ تاہم متاثرین کو بھیجی گئی امداد میں ناکارہ گوشت بھی روانہ کیا گیا۔
اور حکمراں مسلم لیگ کے سربراہ چودہری شجاعت حسین کی جانب سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جو کپڑے بھیجے گئے، ان کے بارے میں لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ لنڈے کے تھے جس پر لوگوں نے انہیں اپنی انا کی توہین سمجھ کر پہننے سے انکار کر دیا۔
آٹھ اکتوبر کو جو زلزلہ آیا اس نے جنوبی ایشیاء کے کئی علاقوں کے مکینوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ لیکن اس زلزلے کے بعد اب تک متاثرہ علاقوں میں درجنوں چھوٹے بڑے جھٹکے آئے ہیں اور اب تک آ رہے ہیں۔ یہ جھٹکے مزید جانی نقصان کا باعث تو نہیں بنے لیکن انہوں نے لوگوں میں خوف و ہراس کی لہر ختم نہیں ہونے دی۔
![]() | |
| تباہی ہو چکی اب تعمیر کرنا ہے |
وادیِ نیلم اور جہلم کے علاوہ کاغان ناران اور سرحد کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں ابھی تک امدادی سامان پہنچ ہی نہیں سکا۔ کچھ دشوار گزار علاقوں میں جہاں ہیلی کاپٹروں بھی کارآمد نہیں ہو سکے وہاں، فوجیوں نے گدھوں اور خچروں کے ذریعے امداد پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
اس بات کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ملبے سے لاشیں آج بھی نکالی جا رہی ہیں، ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہیں، جو بچ گئے کھلے آسمان تلے سرد موسم میں پڑے ہیں، متاثرین اب بھی امداد کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے حکام کو کوس رہے ہیں اور دور دراز کے علاقوں تک امداد کی رسائی ابھی بھی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔