Friday, 04 November, 2005, 08:52 GMT 13:52 PST
جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے ایف سولہ ہوائی جہاز خریدنے کا منصوبہ فی الحال ملتوی کر دیا ہے۔
صدر جنرل مشرف نے اس بات کا اعلان متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملکی وسائل کا استعمال زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے کیا جانا ضروری ہے۔
پاکستانی حکومت امریکہ سے پچاس سے زیادہ ایف سولہ جہاز خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ ان جہازوں میں سے ہر ایک کی قیمت چالیس ملین ڈالر تک ہے۔
اس سے قبل صدر مشرف نے کہا تھا کہ قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے دنیا کے معیارے دہرے ہیں اور اگر زلزلہ سے متاثرہ لوگ مغربی ہوتے تو دنیا ان کی کہیں زیادہ امداد کرتی۔
آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلہ کے متاثرین کے لیےدنیا سے مزید امداد کی اپیل کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیےمزید امداد کی ضرورت ہے۔
صدر مشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلہ متاثرین کی امداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے دہرے معیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحر ہند میں سونامی اور امریکہ میں کٹرینا طوفان آئے تو دنیا کے بعض ملکوں نے دل کھول کر امداد کی لیکن جنوبی ایشیا میں زلزلہ سے متاثرین کے لیے ایسا نہیں کیا گیا۔
صدر مشرف نے کہا کہ اگر زلزلہ سے متاثرہونے والے مغربی ملکوں کے باشندے ہوتے تو شاید امداد اس سے کہیں زیادہ دی جاتی جتنی پاکستان میں زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کو دی گئی ہے۔ یادہ رہے کہ بین الاقوامی برادری نے ابھی تک دو بلین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔
پاکستان کی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تہتر ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ابھی اکتالیس گاؤں ایسے ہیں جہاں تک زلزلے کو تین ہفتے گزر جانے کے باوجود امدادی ٹیموں کی رسائی نہیں ہو سکی ہے۔