Wednesday, 02 November, 2005, 05:59 GMT 10:59 PST
ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام بالا کوٹ
زلزلے سے تقریباً مکمل تباہ ہوجانے والے صوبہ سرحد کے شہر بالا کوٹ میں منگل کے روز متاثرین اس وقت کچھ دیر کے لیئے اپنا غم بھول کر خوشی کا جشن منانے میں مصروف ہوگئے جب ایک کیمپ میں شادی کی رسومات ادا کی گئیں۔
آٹھ اکتوبر کو آنے والی تباھی کے بعد زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں غالباً یہ شادی کی پہلی تقریب تھی۔
ملبے کے ڈھیر بالا کوٹ شہر میں داخل ہوتے ہی دائیں طرف واقع غیر سرکاری تنظیم پتن کے امدادی کیمپ میں مقیم اٹھارہ سالہ رفعت کی شادی اس کے چچا زاد چھبیس سالہ ابرار حسین شاہ کے ساتھ انجام پائی۔
دونوں کی نسبت ایک سال قبل اس وقت طے کی گئی تھی جب بالا کوٹ دریائے کنہار کے ساتھ آباد سیاحوں کی توجہ کا مرکز ایک خوبصورت مقام ہوا کرتا تھا۔
پتن کے عبدالصبور بتاتے ہیں کہ ان کے کیمپ میں متاثرین کی آمد چودہ اکتوبر سے شروع ہوئی تو رفعت اور ابرار کے خاندان کے لوگ بھی مدد کی تلاش میں ادھر آئے۔
چونکہ وہ ایک ہی خاندان سے تھے اس لیئے انہیں ایک ہی خیمے میں پناہ لینے کے لیے کہا گیا۔ اس پر ان کے بڑوں نے بتایا کہ رفعت اور ابرار کی چونکہ نسبت طے ہوچکی ہے اس لیے رواج کے مطابق شادی سے قبل یہ دونوں ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
اس پر دو الگ الگ خیموں کا بندوبست کیا گیا۔ زلزلے کے نتیجے میں رفعت اور ابرار کے خاندان کے نو کے قریب بچے سکول کی چھت گرنے سے ہلاک ہوئے تھے۔
شادی سے ایک روز قبل یعنی پیر کی رات مہندی لگانے کی رسم ادا کی گئی جس میں پتن کے کیمپ میں مقیم لڑکیوں کے علاوہ اردگرد کے کیمپوں میں رہنے والی خواتین نے بھی حصہ لیا، گیت گائے اور یوں ہر طرف چھائے المناک ماحول میں دھندلا جانے والی زندگی کی تصویر میں رنگ بھرنے کی کوشش کی۔
شادی کی تقریب میں شریک مہمانوں میں شامل تھے کئی ملکوں سے آئے امدادی کارکن اور پاکستانی فوج کے اہلکار۔مہمانوں کی تواضع کی گئی چائے اور بسکٹ کے ساتھ جبکہ دلہن کو جہیز میں دیا گیا ایک کمبل، ایک بستر اور دو سلیپینگ بیگز۔
رفعت گھر آباد کرنے کے لیئے ایک خیمے سے رخصت ہو کر دوسرے میں چلی گئی کہ وقت کو ٹھہرنا نہیں بس چلتے جانا ہے. اور شاید وقت کی ایک یہی بات اچھی ہے کہ جیسا بھی ہو گذر جاتا ہے۔