Monday, 31 October, 2005, 04:24 GMT 09:24 PST
حریت کانفرنس کے اپنے دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے بھارت کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ انھیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے سے متاثرین سے اظہار ہمدردی کیلئے پاکستان جانے کی اجازت دے۔
سید علی شاہ گیلانی نے پہلے یہ کہا تھا کہ وہ واہگہ کے راستے پاکستان جائیں گے کیوں کہ وہ لائن آف کنٹرول کے ذریعے سفر کو اپنے اصولی موقف کے خلاف سمجھتے ہیں۔
تاہم پیر کی صبح بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نےایسی کوئی شرط نہیں رکھی اور کہا کہ وہ صرف پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں رہنے والوں سے تعزیت کرنے کے لیے جانا چاہتے ہیں۔
’ہم چاہتے ہیں کہ ہم نہ صرف پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں بدترین زلزلے کے متاثرین سے ملیں اور ان سے اپنے پیاروں کے چھن جانے کی تعزیت کریں بلکہ ہم صوبۂ سرحد میں بھی جانا چاہتے ہیں۔‘
اس سال اپریل میں جب پاکستان اور بھارت نے سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور بھارت کے زیرِانتظام کشمیر سے حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق، مولوی عباس انصاری اور یاسین ملک پاکستان آئے تو سید علی شاہ گیلانی نے پاکستان آنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا اس وقت یہ کہنا تھا کہ وہ لائن آف کنٹرول سے پاکستان جانے کو اپنے اصولی موقف کے خلاف سمجھتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ بھارتی حکومت سے کس طرح کے سفری کاغذات چاہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا جس سے ان کا پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کا سفر ممکن ہو سکے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ویسے ہی کاغذات پر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر جانا چاہیں گے جیسے کاغذات پر دیگر کشمیری رہنما اپریل میں گئے تھے توانہوں نے اس سے انکار نہیں کیا۔
تاہم علی شاہ گیلانی نے یہ کہا کہ مظفر آباد بس سروس مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالنے کا ایک بہانہ تھا۔
میر واعظ عمر فاروق
دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے
آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کو مستقل طور پر ختم کر دینا چاہئیے۔
میر واعظ عمر فاروق کے مطابق پانچ مقامات سے لائن آف کنٹرول کھولنے کا اعلان بہت دیر بعد کیا گیا ہے اور سفری دستاویزات کے طور پر کشمیری شہری ہونا کافی سمجھا جائے۔