Monday, 31 October, 2005, 00:35 GMT 05:35 PST
پاکستان کے وزیرِاعظم شوکت عزیز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ زلزلہ زدگان کے لیے ناکافی عالمی امداد پراطمینان کا اظہار کرنے کی بجائے دنیا سے مزید اور مسلسل مدد مانگیں۔
بی بی سی ورلڈ سروس کے ٹاکنگ پوائینٹ پروگرم میں پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز کو بی بی سی کے سامعین نے فون اور ای میل کے ذریعے بتایا کہ اگر عالمی برادری کی توجہ پاکستان کے زلزلہ متاثرین سے ہٹ گئی تو ان کی ایک بہت بڑی تعداد کو جن میں بچے اور بوڑھے بالخصوص شامل ہیں شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
اس سے قبل وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس پروگرام میں زلزلہ سے متاثرہ لاکھوں افراد کی مدد اور بحالی کے لیے دنیا بھر سے ملنے والی امداد پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
فیاض باقر کے مطابق’ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اگرعالمی امداد پر اطمینان ظاہر کرنے کی وجہ سے عالمی برادری کی توجہ کم ہوگئی تو متاثرین کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ایک دوسرے اجلاس میں جس میں ان کے علاوہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے وزیرِاعظم اور صدر دونوں موجود تھے، اس بات پر غور کیا گیا کہ دنیا نے زلزلہ متاثرین کے لیے اب تک جو مدد فراہم کی ہے اس پر ’کسی طرح کے اطمینان کی ضرورت نہیں بلکہ عالمی برادری سے مدد مانگی جانی چاہیے۔‘
وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے بی بی سی کے پروگرام میں یہ کہا تھا: ’ہم نے جو کام کیا وہ اس لحاظ سے اپنی حیثیت میں تاریخی نوعیت کا کام ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں فوجی جوان پہاڑی علاقوں میں پھیل گئے جہاں کوئی رستہ موجود نہیں تھا، کوئی سڑک موجود نہیں تھی۔ یہ جوان ہر متاثرہ شخص کے لیے اپنی پشت پر خوراک لادے خچروں پر ادویات لیے میدان عمل میں اتر آئے ۔اس وقت زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں کوئی بھی یہ شکایت نہیں کر رہا ہے کہ وہ خوراک کی کمی کا شکار ہے۔
فیاض باقر نے کہا کہ امدادی کاموں میں فوج کی شمولیت سے صرف انتظامی امور بہتر ہوئے ہیں۔ لیکن صورتِ حال اتنی خراب ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حالات مکمل قابو میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پہلے لوگوں کی اموات قدرتی آفت کی وجہ سے ہوئی تھیں تو اب انسانی کوتاہیوں سے ہوں گی۔ ’اور حکومت کو یہ بات عالمی سطح پر بتانے کی ضرورت ہے۔‘