http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 30 October, 2005, 12:16 GMT 17:16 PST

کشمیری خاندانوں کو پہلی ترجیح

پاکستان اور بھارت نے کہا ہے کہ سات نومبر کو ایل او سی کھلنے کے بعد اسے عبور کرنے کے لیے ترجیح کشمیری خاندانوں کو دی جائے گی۔

دونوں ممالک کے جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امدادی سامان نوسیری-ٹیتھوال، چکوٹھی-اُوری، حاجی پور-اُوری، راولاکوٹ-پونچھ اور تتاپانی-میندھر کے مقامات سے دونوں جانب کے مقامی حکام کے حوالے کیا جا سکےگا۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علاقے میں ذرائع آمدورفت کی کمیابی اور سڑکوں کے ٹوٹنے کی وجہ سے ان مقامات سے ایل او سی صرف پیدل عبور کی جا سکے گی۔

ہفتے کی رات کئی گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے پاکستان اور بھارت میں کنٹرول لائن کھولنے پر اتفاق ہوگیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ پانچ مقامات سے کنٹرول لائن کھولنے کے لیے ہونے والا معاہدہ سات نومبر سے نافذالعمل ہوگا۔

اس سے قبل دونوں ملکوں نے کنٹرول لائن کو پار کرنے کے مقامات کے بارے میں تجاویز دی تھیں لیکن ان پر اتفاق نہیں ہو رہا تھا کہ ایسے مقامات کی تعداد کتنی ہوگی۔

پاکستان کی وزراتِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہفتے کو صدر مشرف کی اس تجویز پر پاکستان اور بھارت کے نمائندوں کے درمیان تین چار مرتبہ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں اور مشترکہ اعلان پر ہفتے کی رات ایک بجے کے قریب دستخط کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو اپنی جامع تجویز میں پانچ نکات دیے تھے جن پر اتفاق ہوگیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کے آنے جانے کے کاغذات اسی طریقۂ کار پر بنائے جائیں گے جس پر مظفرآباد-سری نگر بس سروس کا اجراء ہوا تھا۔ البتہ یہ کوشش کی جائے گی کہ اس عمل میں تاخیر نہ ہو اور بیوروکریٹک رکاوٹیں خلل نہ ڈالیں۔