Sunday, 30 October, 2005, 22:07 GMT 03:07 PST
عامر احمد خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام مظفرآباد
مظفرآباد میں کھبی لوگ جسے پائلٹ ہائی سکول کے نام سے جانتے تھے وہ آج خیموں کی ایک کالونی ہے جہاں وہ لوگ مکین ہیں جن کا گھر بار آٹھ اکتوبر کے زلزے میں برباد ہوگیا۔
یہ کالونی اکیلی نہیں بلکہ اس طرح کی ایک درجن کے قریب کالونیاں یہاں بس گئی ہیں۔ لیکن دوسری جگہوں کی نسبت اتوار کی صبح اس کالونی کے لوگوں میں کافی جوش و خروش تھا جس کی وجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانچ مقامات سے کنٹرول لائن کھولنے کا معاہدہ ہے۔
ان لوگوں کی خوشی کی وجہ یہ ہے کہ اس خیمے میں وہ لوگ قیام پذیر ہیں جو اصل میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ مقامی طور پر ان لوگوں کو مہاجر کہا جاتا ہے۔
جان محمد جو انیس سو نوے سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ڈرائیور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ہم پچاس برس سے یہ کہہ رہے ہیں کہ کنٹرول لائن کو کھولا جائے۔ پانچ مقامات سے کیوں، اسے پورے کا پورا کھول دیا جانا چاہیے۔‘
’میں نے سنا ہے کہ دوسری طرف (بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں) اتنی زیادہ تباہی نہیں ہوئی۔ میرا رابطہ ابھی خاندان کے ان لوگوں سے نہیں ہوا جو اس پار رہتے ہیں لیکن اب امید ہو چلی ہے۔ آخر ایسے مصائب میں آپ کے رشتہ دار ہی آپ کی مدد کرتے ہیں۔‘
ایک اور مہاجر خاتون ناہید یونس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ یہاں آئی تھیں لیکن دونوں ہی آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں ہلاک ہوگئے۔ ’بس میں تو یہ چاہتی ہوں کہ میں اپنے گھر واپس جا سکوں جہاں میرے خاندان والے اب بھی رہتے ہیں۔میں نے اپنے ماں باپ کو کھونے کے بعد سب سے اچھی خبر یہی سنی ہے۔‘
کنٹرول لائن کھول دینے کے فیصلے کی حمایت کشمیری مہاجروں ہی تک محدود نہیں۔ لگتا ہے کہ عام کشمیریوں نے بھی خواہ وہ کنٹرول لائن کے اِدھر ہوں یا اُدھر، اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اکثر کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ کافی دیر سے ہوا لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’چلو دیر آید درست آید‘
لیکن سیاسی ردِ عمل نسبتاً چوکنا ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ایک وزیر کہتے ہیں ’اس مرحلے پر اس طرح کے فیصلے سے کیا ہوجائے گا۔ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جس کا فائدہ بہرحال پاکستان کی بجائے بھارت کو ہوگا۔‘ ان کا خیال ہے کہ بھارت تو بس یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح پاکستانی علاقوں میں اس کی ساکھ بہتر ہوجائے۔
![]() | |
| جان محمد کہتے ہیں ہم پر تو بھارت کا بھی قبضہ ہے اور پاکستان کا بھی |
لشکرِ طیبہ کے امدادی کارروائیوں کے انچارج حاجی جاوید الحسن سمجھتے ہیں کہ امدادی کاموں پر اس فیصلے سے کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔’پاکستان کی نسبت بھارت کے لیے کنٹرول لائن کے ارد گرد کے علاقوں تک پہنچنا زیادہ دشوار ہے۔ لیکن اس صورتِحال میں ہم کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ اگر حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔
خود مختار کشمیر کے حامی کشمیری رہنما امان اللہ خان جو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ ہیں کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنانے کی جانب پہلا ٹھوس قدم ہے۔ ان کا کہنا ہے ’جب کنٹرول لائن کے آر پار جانے میں کم از کم دس دن لگیں گے تو پھر امدادی کارروائیوں کے حوالے سے اس فیصلے کا کیا خاص اثر ہو سکتا ہے۔‘
اکثر لوگوں اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مظفرآباد میں امریکی فوج موجود ہے اور ان کا استدلال ہے کہ امریکی جہاں ایک بار قدم رکھ دیں وہاں سے جاتے نہیں۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ امریکی فوجیوں کی یہاں موجودگی کی اصل وجہ یہ ہے کہ چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کی تقسیم مستقل حقیقت بن جائے۔