Friday, 28 October, 2005, 09:01 GMT 14:01 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، باغ
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دو بڑے اضلاع باغ اور راولا کوٹ میں امدادی کاموں کے نگران میجر جنرل قاسم قریشی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دونوں اضلاع میں مطلوبہ تعداد کی نسبت تاحال صرف پچیس فیصد خیمے تقسیم کیے جاچکے ہیں۔
باغ کے فوجی ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کے دوران مخصوص اعداد و شمار تو انہیں بھی شاید معلوم نہیں تھے اس لیے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ دونوں اضلاع میں پچاس سے ساٹھ ہزار خیموں کی ضرورت ہے اور تاحال دس سے پندرہ ہزار کے قریب خیمے تقسیم ہوچکے ہیں۔
انہوں نے سیاسی شخصیتوں اور فوجی حکام کی سفارش پر منظور نظر افراد کو خیموں کی تقسیم کے سوال پر کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ اقربا پروری ہورہی ہے۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوج خیموں کی تقسیم توازن کے ساتھ کر رہی ہے اور ترجیحی بنیاد پر اونچے پہاڑی علاقوں والوں کو پہلے خیمے دیے جارہے ہیں۔
کشمیر کے دونوں اضلاع باغ اور راولا کوٹ کی تقریبا دس لاکھ آبادی ہے اور اس میں تاحال فوجی حکام کے مطابق دس ہزار افراد کی ہلاکت اور اتنی ہی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں اضلاع میں تریسٹھ ہزار مکانات منہدم ہوئے ہیں جس میں سے نو ہزار پانچ سو کے قریب پکے مکان جزوی طور پر اور ساڑھے تیرہ ہزار مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ فوج کے دیے گئے اعداد وشمار کے مطابق ان اضلاع میں کچے مکانوں میں سے پچیس ہزار جزوی اور پندرہ ہزار مکمل طور پر منہدم ہوچکے ہیں۔
میجر جنرل قاسم قریشی نے بتایا کہ راولا کوٹ میں باغ کی نسبت تباہی کم ہوئی ہے اور دونوں اضلاع میں انہوں نے اسی فیصد علاقوں میں افواج تعینات کردی ہیں جو امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
کوہالہ پل سے لے کر باغ شہر تک سڑک کنارے بیشتر چھوٹے شہروں اور آس پاس کے گاؤں میں خیمے لگے ہوئے تو نظر آئے لیکن پوچھنے پر بتایا گیا کہ انہیں مطلوبہ تعداد میں خیمے فراہم نہیں ہوئے اور دو دو خاندانوں کو ایک ایک خیمہ دیا گیا ہے۔
ضلع باغ کی تحصیل دھیر کوٹ کے شہر میں اتنی زیادہ تباہی نظر نہیں آئی اور بیشتر دکانیں بھی کھلی ہوئی تھیں اور یہاں کاروبار زندگی معمول کے قریب دکھائی دے رہی تھی۔
جب اس ضلع کے ایک چھوٹے شہر ارجہ پہنچے تو وہاں پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں منظور احمد وٹو کی والدہ کے نام سے منسوب سماجی تنظیم ’امیر بیگم ویلفیئر ٹرسٹ‘ کے زیراہتمام ایک سو خیموں پر مشتمل خیمہ بستی کا بڑا بینر لگا نظر آیا۔
جب خیمہ بستی پہنچے تو اس تنظیم کے نمائندے غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ اب تک انہوں نے پچاس خیمے لگائے ہیں اور اتنی ہی تعداد میں خیمے بعد میں لگیں گے۔ لیکن ان کے مطابق انہوں نے بینر پہلے لگادیا تھا۔ پچاس خیموں میں سے کئی خالی تھے جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابھی لوگ آرہے ہیں۔
خیمہ بستیوں کے قیام کے بارے میں میجر جنرل قاسم قریشی نے کہا کہ وہ اس کے زیادہ حق میں نہیں ہیں کیونکہ ایسی بستیوں میں آگ لگنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور لوگ اپنے گرے ہوئے گھر چھوڑنے کے لیے تیار بھی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں گھر کے ساتھ خیمہ چاہیے۔ ان کے مطابق باغ اور راولا کوٹ میں تاحال بارہ سو امدادی ٹرک تقسیم ہوچکے ہیں۔
باغ شہر سے تھوڑا پہلے ایک زیرتعمیر پیٹرول پمپ کی عمارت میں خیموں سمیت امدادی سامان کے دو ٹرکوں سے منگل کی سہ پہر کو سامان اتارا گیا۔ کیمپ کے باہر بیسیوں خواتین مرد اور بچے موجود تھے لیکن سامان کسی کو نہیں دیا جارہا تھا۔ کئی لوگ فوج کی مہر لگی پہلے سے بانٹی ہوئی پرچیاں بھی دکھائیں اور کہا کہ وہ صبح سے بیٹھے ہیں لیکن فوجی انہیں امداد نہیں دے رہے۔
جب اس کیمپ کے انچارج فوجی حوالدار شہزاد سے پوچھا تو انہوں نے کہا رات سے پہلے سامان بانٹ دیں گے۔ لیکن بدھ کی صبح جب اس کیمپ سے دوبارہ گزر ہوا تو وہاں سامان بھی ویسے پڑا تھا، فوجی موجود تھے اور لوگ بھی جمع تھے۔