http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 28 October, 2005, 08:17 GMT 13:17 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردوڈاٹ کام کراچی

زلزلے نے مجھ کیا کیا چھین لیا؟

حکومت چاہے کتنے بھی دعوے کرے مگر ہمارے ہی گاؤں میں ابھی تک کوئی بھی امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔

اپنے زخمی بیٹے کو مظفر آْباد سے علاج کے لیےکراچی لانے والے عبدالوحید نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مظفر آباد کے گاؤں کونا کھتر کا رہائشی ہے۔ زلزلے کے بعد اس نے صرف ہیلی کاپٹروں کو فضا میں اڑتے ہوئے ہی دیکھا اترتے نہیں دیکھا۔گاؤں کی آبادی دو ہزار تھی جس میں سے ساڑہ تین سو افراد ہلاک ہوگئے جنہیں دفن بھی ہم نے خود ہی کیا۔

اس نے بتایا کہ ایک دن صرف ایک ہیلی کاپٹر آیا اور اس نے بھی سامان ایک ایسے گھر میں پھینکا جس کا مالک فوجی ہے۔ جس نے سامان پر قبضہ کرلیا اور لوگوں کو دھمکی دیکر دوڑا دیا کہ یہ سامان سی او صاحب نے صرف اس کے لیے بھیجا ہے۔

عبدالوحید نے بتایا کہ مکئی کی فصل تیار ہے لوگ اس کو ابال کر کھا رہے ہیں۔ جبکہ جن لوگوں کے پاس کچھ جانور بچ گئے ہیں انہیں ذبح کیا جارہا ہے۔ اس نے بتایا کہ ہمارے گھر بھی ایک بچھڑا بچ گیا تھا جس کو ذبح کیا گیا ہے۔
دو ہزار کی آبادی تھی 3 سو مر گئے
 گاؤں کی آبادی دو ہزار تھی جس میں سے ساڑہ تین سو افراد ہلاک ہوگئے جنہیں دفن بھی ہم نے خود ہی کیا
 

زلزلے میں گھر گر جانے کے بعد گاؤں کونا کھتر میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں جبکہ اوڑھنے کو بھی کچھ نہیں ہے۔ عبدالوحید کے مطابق کمبل کم ہونے کی وجہ سے گھروں میں عورتوں کے جھگڑے ہوگئے ہر کوئی چاہ رہا ہے کہ اس کے بچے کو سردی نہ لگے۔

عبدالوحید نے بتایا کہ زلزلے نے اس سے دو بیٹے۔ ایک بیٹی اور ماں کو چھین لیا ہے۔ جبکہ چھوٹے بیٹے نبیل کی آنکھ نکل آئی تھی۔ جس کا کئی روز علاج نے ہونے کی وجہ سے بدبو ہوگئی ۔ اس کی تکلیف نے دیکھ کر میں اس کو گود میں لیکر پیدل نکل پڑا اور مظفر آباد پہنچا۔ جہاں سے اس کو پی ایم اے والے کراچی لے آئے ہیں۔