Thursday, 27 October, 2005, 16:31 GMT 21:31 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام بالا کوٹ
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹروں نے اب ان زخمیوں کے اعضا کاٹنے شروع کر دیے ہیں جن کے بارے میں طبی ماہرین کی رائے ہے کہ اب اگر ان کے ان اعضاء کو ان کے جسموں سے الگ نہ کیا گیا تو وہ باقی جسم کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔
متاثرہ علاقے کے ایک عارضی ہسپتال میں کام کرنے والے سرجن ڈاکٹر طارق نے بتایا کہ وہ اب تک پانچ سو کے قریب ایسی چھوٹی بڑی سرجری کرچکے ہیں جن میں سے کچھ میں مریضوں کے اعضاء الگ کرنا ناگزیر تھے۔
اسلامک انٹرنیشنل میڈیکل کالج نے یہ فیلڈ ہسپتال بالا کوٹ اور گڑھی حبیب کے اتصال عطر شیشہ میں قائم کر رکھا ہے تاکہ کشمیر اور ہزارہ دونوں کے مریضوں کو دیکھا جاسکے۔
کشمیر اور ہزارہ کے پہاڑوں پر ابھی بھی بے شمار زخمی بے یار و مددگار پڑ ے ہیں اور تاحال ان کی طبی مراکز میں آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب آنے والے مریضوں کے زخموں کی حالت بہت بگڑ چکی ہے اور خراب سے خراب تر ہوتی چلی جارہی ہے۔
ڈاکٹر طارق نے بتایا کہ جمعرات سے نہیں بلکہ چار روز پہلے سے ہی ایسے مریض آنا شروع ہو چکے ہیں جن کے جسموں میں زہر پیدا ہونے کی وجہ سے اعضاء کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
انہوں نے بتایا کہ ایسے مریضوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جنہیں اب سے پہلے کوئی طبی امداد نہیں ملی۔
انہوں نے کہا کہ اس بگڑتی صورتحال کے پیش نظر اب بڑی تعداد میں مصنوعی اعضا کی ضرورت ہے۔
![]() | |
| بگڑتی صورتحال میں اب مصنوعی اعضاء کی بڑی تعداد درکار ہے |
زلزلے سے پہاڑی علاقوں کے راستے بند ہوچکے ہیں زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اور ان کے لواحقین کمر پر لاد کر ریلف کیمپوں میں پہنچا رہے ہیں ۔
بالا کوٹ میں ایک نوجوان نے بتایا کہ ان کے والد کی ٹانگ ٹوٹی ہے لیکن وہ انہیں کمر پر لاد کر ہسپتال نہیں لاسکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ارد گرد کے پہاڑوں پر لاتعداد زخمی پڑے ہیں جنہیں کمر پر لاد کر بھی ایسے مقام تک نہیں پہنچایا جاسکتا جہاں انہیں طبی امداد مل سکے۔
ہر گذرتے دن کے ساتھ سردی کی شدت میں اضافہ ہوتاجارہا ہے نہ جانے ان زخمیوں کا کیا بنے گا جو آج بھی پہاڑوں کی چوٹیوں اور دامن میں بے یار و مددگار پڑے ہیں۔