Wednesday, 26 October, 2005, 15:19 GMT 20:19 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں سے مزید چونتیس زخمیوں کو علاج کے لیے کراچی لایا گیا ہے۔
بدھ کی شام ایک سی ون تھرٹی طیارہ زخمیوں کو چکلالہ کے ہوائی اڈے سے پی اے ایف ایئر بیس شاہراہِ فیصل پہنچا۔
ان زخمیوں کو کراچی لانے کا انتظام پاکستان پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن نے کیا تھا۔ زخمیوں کو سول ہسپتال سمیت شہر کی مختلف نجی ہسپتالوں میں رکھا گیا ہے۔
زخمیوں میں دو بچے اٹھارہ خواتین اور چودہ مرد شامل ہیں اور ان کے ساتھ ان کے رشتہ دار بھی آئے ہیں۔
مریضوں کو لانے والے ڈاکٹروں کی تنظیم پی ایم اے کے رہنما ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ انہیں صرف ابتدائی طبی امداد دی گئی تھی۔ جن مریضوں کے آپریشن کیے گئے ہیں انہیں بھی ایک بار پھر آپریشن کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان مریضوں کا تعلق مانسہرہ اور بالاکوٹ سے ہے۔ جن میں سے کئی کے ہاتھوں اور پیروں پر زخم آئے ہیں۔ جبکہ کئی جگہوں پر فریکچر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مزید مریضوں کو بھی کراچی لایا جارہا ہے جس کے لیے مریضوں سے کونسلنگ کرنی پڑتی ہے اور دوسرے انتظام کرنا ہوتے ہیں۔ ان تمام انتظامات کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ٹیپو کے مطابق پالیسی کے تحت ہر مریض کے ساتھ ایک رشتے دار کا آنا ضروری ہے اگر مریض خاتون ہے تو اس کے ساتھ ایک مرد اور ایک خاتون رشتے دار ساتھ لائی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹروں کی تنظیم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر شیر شاہ نے منگل کی شام ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کراچی میں نجی ہسپتالوں کی جانب سے ان کو تین سو بیڈ دیے گئے ہیں۔ ان مریضوں کا علاج مکمل طور پر ان ہسپتالوں کی ذمہ داری ہوگی۔
یاد رہے کہ اب تک ستر سے زائد زخمی مریض کراچی لائے گئے ہیں۔