Tuesday, 25 October, 2005, 07:43 GMT 12:43 PST
اقوام متحدہ کے امدادی ادارے نے کہا ہے کہ پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ دور دراز علاقوں میں بیس فیصد افراد تک اب بھی کوئی امداد نہیں پہنچ پائی ہے اور اِن علاقوں میں برفباری شروع ہونے میں صرف تین ہفتے باقی ہیں۔
بی بی سی سے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا دنیا بھر کے ملکوں کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ یہ بہت بڑے پیمانے کی تباہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ملکوں کو متاثرہ لوگوں کی مالی امداد کے علاوہ
ان بے گھر لوگوں کو سر چھپانے اور بہت سے لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ مہیاکرنے کے لیے امداد جاری رکھنی چاہیے۔
پاکستان کے شمالی علاقوں میں امدادی کاموں میں شامل ایک فوجی اہلکار نے کہا کہ ان علاقوں میں برف باری کے بعد شدید سردی میں ٹینٹ بھی رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
ادھر باغ سے ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر نے اطلاع دی ہے کہ اگرچہ علاقے میں زندگی محدود پیمانے پر بحال ہونے کے آثار ہیں لیکن ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بہت اضافہ ہوگیا ہے اور لوگوں کو ضروریاتِ زندگی جن میں سبزیاں اور دالیں شامل ہیں خریدنے کے لیے بہت زیادہ پیسے دینے پڑ رہے ہیں۔ وہاں امداد پہنچی ہے لیکن کئی افراد کو بدنظمی کے باعث فوجی کیمپوں سے امداد حاصل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
بالاکوٹ سے ہمارے نامہ نگار علی سلمان نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ یہ علاقہ ابھی تک ملبے کا ڈھیر ہے لیکن زندگی کی بحالی کے آثار بھی نظر آرہے ہیں۔کچھ دکانیں کھل گئی ہیں لیکن ان میں سگریٹ خریدنے والوں کا رش ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور شمالی علاقوں میں آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں پچاس ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک اور تیس لاکھ کے قریب بے گھر ہو گئے ہیں۔